Hazrat Imam Hussain RZ aur waqia Karbala Complete History in Urdu | Waqia Karbala
شہید کر بلا نواسہ رسول ﷺ
سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
دین کی سر بلندی ، اسلام کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر کے ایک بے مثال ، لا زوال
تاریخ رقم کی
نواسہ رسول ، جگر گوشہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سید شباب اہل الجنہ،
ریحانتہ النبی ﷺ ، شہید کربلا، سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ ذات ِ گرامی حق
و صداقت ، جرات و شجاعت ، عزم و استقلال ،ا یمان عمل ، ایثار و قربانی تسلیم و رضا
، اطاعت ربانی ، عشق وفا اور صبرو رضا کی ایک بے مثال داستان ہے۔ انسانی تاریخ میں
دو قربانیاں منفرد مقام اور نہایت و ظمت و
اہمت کی حامل ہیں۔ ایک امام الا نبیاء ،
سیر المر سلین ، خاتم النبین ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ، احمد مجتبی ﷺ کے جدِ اعلیٰ ، حضرت ابراہیم و
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیا ور دوسری نواسہ رسول، شہید کربلا، حضرت امام
حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ، ان دونوں قر بانیوں کا پس منظر غیبی اشارہ
اور ایک عظیم قربانی وجود میں آئی۔ جب
سدینا حسین ابن علی رضیا للہ تعالیٰ اپنیے
جاں نثاروںکے ساتھ کربلا کی جا نب روانہ ہوئے اور کچھ لوگوں نے آپ کو روکنا چاہا ،
تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام باتوں
کے جواب میں ایک بات فرمائی ۔
" میں نے ( اپنے نانا) رسول کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے تاکید کے ساتھ
مجھے ایک کام کا حکم دیا ہے اب بہر حال میں یہ کام کروں گا۔ خواہ مجھے نقصان ہویا
فائدہ ،"
پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہ خواب کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا !
ابھی تک کسی کو نہیں بتایا ، بہ بتا ؤں گا۔ یہاں تک کہ اپنے پرو ردگار عزوجل سے
جاملوں گا"( ابن جریری طبری 5/388،
ابن کثیر / البدایہ و النہایہ 8/168)
چناں چہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی تعبیر دس ذی الحجہ کو پوری ہوئی اور
سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اک خواب دس محرم 61 ہجری کو تعبیر آشنا ہوا۔ دونوں خوا بوں کی تعبیر قربانی تھیدس
ذی الحجی کومنیٰ میں یہ خواب اپنے ظاہر
میں رُونما ہوا اور دس محرم کو سر زمین کر بلا پر اپنی باطنی حقیقت کے ساتھ جلواہ
گر ہوا ۔ یوں باپ نے جس طرز قر بانی کا آ
غاز کیا تھا، تسلیم و رضاا ور صبرو وفا کے پیکر فرزند نے پوری تا بانیوں کےس اتھ
اس عظیم سنت کو مکمل کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جس سنت کی ابتدا ہوئی تھی۔
سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس کی انتہا
ہوئی۔ سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہ
السلام اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کی قربایوں میں یہی جذبہ عشق و محبت کا ر فرما تھا۔ اس لیے یہ قر بانیاں آج
تک زندہ ہیں اور قیامت کت زندہ رہیں گیں۔
محسن انسانیت ، حتمی مر تبت ورور کائنات ، حضرت محمد مصطفی
ﷺ کار ارشاد گرامی ہے۔ کہ سلطان جائز (ظالم و جابر با دشاہ اور ان اوصاف
کے حامل حاکم وقت ) کے خلاف کلمہ حق بلندکرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ " ( نسائی ،
ترمذی )
تاریخی روایات کے
مطابقر رجب 60 ہجری 680 ء میں یزید نے اسلامی اقدار اور دین مبین کی روح کے منافی
ظلم و جبر و استبدا پر مبنی اپنی حکومت کا
اعلان کیا۔ بالجبر عام مسلمانوں کو
بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا گیا ۔ مدینہ
منورہ میں ایک مختصر حکم نامہ ارسال کیا گیا جس
میں تحیر تھا " حسین ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
تعالیٰ عنہ اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے اور اس
معاملے میں پوری سختی سے کام لیا جائے۔ یاہں تک کہ یہ بیعت کر لیں"
( ابن اثیر / الکامل فی التاریخ 3/263)
بعد ازاں سر کار دو جہاں ﷺ
کے نور نظر، جوانا جنت کے رہبر
سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے جد اعلیٰ ،
حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور اپنے نانا ،
امام الا نبیاء ، حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اتبا ع میں سلطان جائر، حاکم وقت یزید کے
خلاف جرات اظہار اور علم جہاد بلند کرتے
ہوئے اسوہ یمبری پر عمل کیا امت مسلمہ کو حق و صداقت اور دین پر مر مٹنے کا درس دیا خلق خدا پر اپنے ظالمانہ قوانین کی پیروری کا حکم دینے اور
محرمات الہی کو توڑنے والی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ببانگ دہل
فرمایا
خطبہ
" لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم ،
محرماتِ الہی کو حلال کرنے والے، اللہ کے عہد کو توڑنے والے ، اللہ کے بندوں پر
گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے
والے بادشاہ کو دیکھا اور قولا ً و عملا ً
اُسے بدلنے کی کوشش نہ کی ۔ تو اللہ تعالیٰ
کو یہ حق ہے کہ اُس شخص کو اُس ظالم باداہ کی جگہ دوزخ میں داخل فرما
دے"
آگاہ ہو جاؤ ، ان لوگوں
نے شیطان کی حکومت قبول کر لی ہے۔
اور رحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے ملک میں
فساد پھیلایا اور حدود اللہ مطعل کر دیں۔ یہ مال غنیمت سے اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں
اُنہوں نے اللہ حرام کردہ چیزیں حلال کر دیں اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ اِس لیے
مجھے اس کے بدلنے کا حق ہے"( ابن اثیر / الکامل فی التاریخ 4/40)
یہی وہ سب سے بڑا جہاد اور دینی فریضہ تھا جس کی ادائیگی کے
لیے نواسہ رسول ﷺ سیدنا حسین ابن علی رضی
اللہ تعالیٰ عنہ فرمان بنوی ﷺ اور
اسوہ پیمبری ﷺ کی پیروی میں وقت کے سلطان جابر
حاکم یزید کے خلاف ریگ زار کربو بلا میں 72 نفوس قدسیہ کے ساتھ ورد ہوئےاور
حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی وہ بے مثال تاریخ رقم کی جس پر انسانیت ہمیشہ فخر
کر تی رہے گی حق کے متوالے اور ظالم و
جابر قوتوں کےخلاف صف آ را ء مروان ، حُر
اور شہہ سوار حق اِ س راستے پر ہمیشہ چلتے رہیں گے شہدائے کربال کے قافلہ
سالارا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور
اُن کے رفقا ء حق و صداقت اور جرا ت و شجاعت کا علم بلند کیے اپنے رب کی رضا ،
اعلیٰ انسانی اقدار کی بقا، دین مبین کی سر بلندی اور شریعت مصطفی ﷺ کے تحفظ کے
لیے بے مثال تاریخ رقم کر کے یہ پیغام دے
گئے کہ " ہم خاک ہو گئے لیکن ہماری ترُ بت کی خوش بُو سے ہمیں
پہچانا جا سکتا ہے کہ اس خاک سے
بھی مردانگی پُھوٹ رہی ہے۔
کربلا میں ایک شب سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نے اپنے رفقا اور جاں نثار جمع کیے اور خطبہ ارشاد فرمایا
خطبہ کربلا
" میں اپنے رب ذوالجلال خدائے واحد کی حمدو ثنا بیان
کرتا ہوں۔ رنج و راحت ہر حال میں اُس کا شکر گزار ہوں۔ الہی ! تیرا شکر ہے کہ تو
نےہمارے گھرانے کو نبوت سے مشرف و سرفراز کیا۔ قرآن کا فہم عطا کیا، دین میں سمجھ
بخشی ہمیں دیکھنے ، سننے اور عبرت پکڑے کی قوتوں سے سرفراز فرمایا ۔
اما بعد۔۔۔۔۔ اے لوگو ! تم سب کو اللہ میری جانب سے جزائے خیر دے ۔ میں سمجھتا ہو کہ کل
میرا اور اُن کا فیصلہ ہو جائے گا۔ غورو فکر کے بعد میری رائے یہ ہے کہ تم سب
خاموشی کے ساتھ نکل جاؤ ، رات کا وقت ہے
تاریکی میں اِدھر اُدھر نکل جاؤ ، میں خوشی سے تمہیں رخصت کرتا ہوں۔ میری
جانب سے کوئی شکایت نہ ہو گی۔ یہ لوگ صرف
میرے طلب گار ہیں۔ میری جان پا کر تم سے غافل ہو جائیں گے"
یہ سن کر آپ کے اہل بیت ، بہت رنجیدہ اور بے چین ہو ئے۔حضرت
عباس بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گویا ہوئے۔
" یہ کیوں ؟ کیا اس لیے کہ ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کے بعد زندہ رہیں اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم بن عقیل
کے رشتے دار وں کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا ۔ " اے اولاد عقیل ! مسلم رضی
اللہ تعالیٰ عنہ کا قتل کافی ہے۔ تم چلے جاؤ ، میں نے تمہیں اجازت دی۔ آپ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان سن کر وہ کہنے لگے
" لوگ کیا کہیں گے؟ یہی کہ تم اپنے شیخ ،س ردار
اور غم زادوں کو چھوڑ کر بھاگ آئے ہم نے
ان کے ساتھ کوئی تیز پھینکا ، نہ نیزہ چلایا اور نہ ہی تلوار گھمائی ، ، واللہ !
یہ ہر گ نہیں ہوگا۔ ہم تو آپ رضی اللہ تعالیٰ پر اپنی جان ومال ، آل اولاد سب کچھ قربان کر دیں گے۔ آپ
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شانہ بشانہ لڑیں
گے۔ جوآپ پر گزرے گی وہی ہم پر گزرے گی ۔ آپ کے بعد اللہ ہمیں زندہ نہ رکے"
بعد ازاں ، آپ کے دیگر رفقاءا ور جان نثار کھڑے ہوئے،
مسلم بن عو سجہ اسدی نے کہا
" کیا ہم آپ کو چھوڑ دیں گے ؟ حالاں کہ اب تک آپ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ کا حق ادا نہیں کر سکے ہین۔ واللہ ! نہیں ہر گز نہیں میں اپنا
سینہ ان دشمنوں کے نیزے میں توڑ دوں گا ۔ جب تک قبضے میں ہاتھ رہے گا۔ تلوار چلاتا
رہوں گا۔ نہتا ہو جا ؤں گاتو پتھر پھینکوں
گا یہاں تک کہ موت میرا خاتمہ کر دے۔"
سعد بن عبد اللہ الجعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
" واللہ ! ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ ( مدو
نصرت ) اُس وقت تک نہیں چھوڑیں گے ۔ جب تک خدا جان نہ لے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کا حق محفوظ رکھا، اللہ ! اگر مجھے معلوم ہو جکہ میں قتل ہو جاؤں
گا جلایا جاؤں گا آگ میں بھینکا جاؤں گا ۔ پھر میری خان ہوا میں اڑ ا دی جائے گی
اور ایک مرتبہ نہیں ستر مرتبہ مجھ سے یہی سلوک کیا جائے پھر بھی آپ کا ساتھ نہیں
چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ آپ کی حمایت میں
فنا ہو جاؤں"
امیر بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
" بخدا ! اگر میں ایک ہزار مرتبہ بھی آ رے سے چیز ا
جاؤں ۔ تو بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا خوش
نصیب اگر میرے قتل سے آپ کی اور آپ کے اہل بیت کے ان نو نہالوں کی جانیں بچ
جائیں "
( تاریخ طبیر 315/3)
حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر شہدائے
کربلا نے راہ حق میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جرات اظہار کا
حوصلہ اور باطل کے خلاف احتجاج اور جہاد
کا سلیقہ اور ولولہ عطا کیا۔ سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صدائے حق نے مظلوم
ِ انسانیت کو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ظلم وجبر کے خلاف ڈٹ جانے کا
حوصلہ اور حق نوائی کا بے مثال درس دیا۔
نواسئہ رسول ﷺ ، سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
یہی وہ بے مثال قربانی اور کعبتہ اللہ کی عظمت و حرمت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر
دینے کا عظیم جذبہ اور داستان حرم ہے جس
کے متعلق شاعر مشرق ، علامہ اقبال نے کہا تھا۔
غریب و سادہ رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین
رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابتدا ہے اسماعیل علیہ السلام
علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ آپ کے حضور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں
موسیٰ وفرعون و
شبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید ۔۔۔
زندہ حق از قوت شہیری است
باطل آکر داغ حسرت میری است
تا قیامت قطع استبدا کر د۔۔۔۔
موج خون او چمن ایجاد کرو۔۔۔۔۔
بہر حق در خاک و خون غلطیدہ است۔۔۔۔۔
پس بنائے لاالہ گردیدہ است
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما
نوشت"
یعنی موسیٰ علیہ السلام اور فرعون، حسین رضی اللہ تعالیٰ
عنہ اور یزید ، حق اور باطل کی یہ دو قوتیں زندگی ہی سے ابھرتی ہیں مگر حق ہمیشہ
قوت حسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے زندہ ہے اور باطل آخر کار داغ حسرت لے کر مر
جاتا ہے اس نے قیامت تک کے لیے جبر و
استبداد کو فنا کر دیا۔ اس کے خون کی ایک موج نے گلستان پیدا کر دیئے ۔ وہ صرف
قیام و استحکام حق کے لیے شہید ہوا ہے اور
اس لیے اس کی ہستی تو حید کی بنیاد ہو گئی ۔ اس نے سینہ صحرا پر تو حید کا نقش ثبت
کیا اور گویا ہماری بخشش اور نجات کی سطر لکھ دی

No comments:
Post a Comment