waqia karbala and kufa ka kirdar | waqia karbala | Hazart Imam Hussain RZ 10 Muharram ka waqia in Urdu
واقعہ کربلا میں اہل کوفہ کا کردار
اہل کوفہ درحقیقت تین گروہوں میں تقسيم تھے ۔
پہلا گروہ وه تھا جو
حضرت عثمان رضی اللّه کی شہادت کا ذمہ دار مولا علی علیہ السلام کو سمجھتا تھا ۔یہ
اہل کوفہ حضرت علی کرم اللّه وجہہ کو چوتھا خلیفہ نہیں تسلیم کرتے تھے اور اسی وجہ
سے امام حسین کے سخت مخالف تھے ۔
دوسرا گروہ مولا علی
علیہ السلام کو چوتھا خلیفہ تو تسلیم کرتا تھا لیکن امامت کا قائل نہیں تھا ۔یہ
اہل کوفہ امام حسین علیہ السلام کو امام برحق نہیں مانتا تھا ۔کوفہ میں انکی تعداد
سب سے زیادہ تھی ۔
تیسرا گروہ وہ تھا جو
امامت کا قائل تھا ۔یہ گروہ امام حسین کو تیسرا معصوم امام مانتا تھا اور روے زمین
پر خلافت کا سب سے زیادہ حق دار امام حسین کو تصور کرتا تھا ۔انکی تعداد بہت کم تھی
اور اسی گروہ کی جانب سے پہلا خط امام حسین علیہ السلام کو لکھا گیا ۔
اہل کوفہ کی جانب سے جو
پہلا خط امام حسین کو لکھا گیا اس کے روح رواں سیلمان بن صرد خزاعی ؛مسیب بن نجبہ
خزاری ؛زماعتہ بن شداد اور حبیب ابن مظاہر وغیرہ شامل تھے ۔
یاد رہے کہ اہل کوفہ کے
خطوط کی تعداد ایک سو پچاس (زیادہ تر روایات ) تھی اور ہر خط میں بیسیوں لوگوں کے
دستخط تھے ۔
سلیمان بن صرد خزاعی کے
گھر سے لکھے گے پہلے خط میں امام حسین کو جلد از جلد کوفہ آنے کی در خواست کی گئی
اور ہر طرح کی نصرت و مدد کی یقین دہانی کرائی گئی ۔
مذکورہ افراد کوفہ میں
شہرت کے حامل تھے اور انکے خط نے کوفہ میں ہلچل پیدا کر دی ۔اہل کوفہ کے دوسرا
گروہ جو خلافت راشدہ کا قائل تو تھا لیکن امام حسین کو امام نہیں مانتا تھا ۔جب اس
گروہ نے اہل کوفہ میں امام حسین سے متعلق اشتیاق دیکھا تو انہوں نے بھی امام کو خط
لکھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔
اس گروہ کے خطوط کے روح
رواں شبت بن ربعی جس نے امام حسین کی شہادت کی خوشی میں شکرانے کی مسجد تعمیر کروائی۔
حجار بن ابجر جو عمر بن سعد کی فوج کا سپہ سالار تھا ۔
یزید بن حارث جو روز
عاشور امام حسین سے اس بات کا منکر ہو گیا تھا کہ اس نے کوئی خط لکھا تھا ۔
عزرہ بن قیس جو عمر بن
سعد کی گھوڑے سوار فوج کا سپہ سالار تھا ۔اور عمرو بن حجاج زبیدی جو پانچ سو
گھڑسواروں کے ساتھ نہرفرات پر موجود تھا تا کہ پانی خیام تک پہنچایا نہ جا سکے تھے
۔
انہوں نے اپنے خطوط میں
امام حسین کو لکھا کہ کھیتیاں سرسبز ہو چکی میوے پك چکے ہیں آپ جب چاہیں تشریف
لائیں ۔
جبکہ ایک گروہ جو حضرت
عثمان رضی اللّه کی شہادت کا ذمہ دار مولا علی کو سمجھتا تھا اس نے امام کو کوئی
خط نہ لکھا بلکہ اس اٹھتی ہوئی بغاوت کو کچلنے کے لئے یزید کی طرف ایک خط لکھا جس
میں گورنر کوفہ نمعان بن بشیر کی صلح پرستی کی شکایت کرتے ہوئے کسی اور شخص کو
گورنر منتخب کرنے کا کہا گیا ۔
یزید نے انکا خط پڑھنے
کے بعد نعمان بن بشیر کو فوری معزول کیا اور عبید اللّه ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر
بنا کر بھیجا ۔
تاہم اس سے پہلے امام
حسین نے سلیمان بن صرد خزاعی اور حبیب ابن مظاہر کی جانب مسلم بن عقیل کو اپنا
وکیل بنا کر بھیجا ۔
مسلم بن عقیل کے ہاتھ
بیعت کا سلسلہ شروع ہوا تو کوفہ کا ماحول تبدیل ہونے لگا ۔بدلتے ماحول کو دیکھ کر
مسلم کے ہاتھوں اس گروہ نے بھی بیعت کر لی جو خلافت راشدہ کا قائل تو تھا لیکن
امام حسین کو برحق امام اور خلافت کا قائل نہیں سمجھتا تھا لیکن اس گروہ کو بیعت
کرنے میں ہی اپنی عافیت نظر آئ ۔
جب ابن زیاد کوفہ پہنچا
تو ایک وقت کے لئے سہم کر رہ گیا ۔لیکن سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس نے اعلان کیا
کہ شامی فوجوں کا ایک لشکر جلد کوفہ پہنچنے والا ہے جو بغاوت کرنے والے ہر سر کو
تن سے جدا کر دے گا ۔
ابن زیاد کے اس اعلان
کے ساتھ ہی امام حسین کو امام نہ ماننے والے گروہ نے مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑنا
شروع کر دیا اور جلد ہی کوفہ کے تمام تر معاملات کا کنٹرول ابن زیاد کے ہاتھوں میں
چلا گیا ۔
اہل کوفہ کا مٹھی بھر
وہ طبقه جو امامت کا قائل تھا چن چن کر قتل کیا جانے لگا ۔وکیل نواسہ رسول ﷺ مسلم
بن عقیل کو بھی شہید کر دیا گیا ۔باقی بچ جانے والے افراد گوشہ نشین ہو گے ۔
امام حسین جو مدینہ سے
سفر پر تھے ۔جب انہیں مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے عراق کی طرف
رخ کر دیا کیوں کہ عراق میں انکے چاہنے والوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔
جب ابن زیاد کو اس کی
خبر ہوئی تو انہوں نے حر بن یزید ریاحی کی قیادت میں پہلا لشکر بھیجا تا کہ امام
حسین کا راستہ روکا جا سکے ۔حر بن یزید کربلا کے مقام پر امام حسین سے ملا تو امام
نہر فرات کے کنارے خیمہ زن ہو گے ۔
اب کوفہ میں ابن زیاد
نے منادی کرا دی کہ جو شخص کربلا کے میدان میں امام حسین کے مد مقابل انکے لشکر کا
حصہ نہیں بنے گا اسے قتل کر دیا جاۓ گا ۔اس نے خوف و ہراس کی فضا قایم کرنے کے لئے چند
لوگوں کو قتل کیا ۔یہ قتال دیکھ کر لوگ جوق در جوق ابن زیاد کے لشکر میں شامل ہو
کر کربلا کے لئے چل نکلے ۔
امام حسین علیہ السلام
کی طرف پہلا خط لکھنے والا طبقه بھی کسی طرح سے کربلا آن پہنچا اور امام حسین سے آ
ملا ۔یہ وہ گروہ تھا جو روے زمین پر امام حسین کو خلافت کا سب سے زیادہ حقدار
سمجھتے تھے اور جنہوں نے کوفہ میں یزیدی کی حکومت کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا ۔
اس گروہ کے زیادہ تر
افراد کو ابن زیاد نے کوفہ میں شہید کر دیا تھا یا جیلوں میں ڈال دیا تھا ۔تاہم
کسی بھی طرح سے کربلا پہنچ کر امام عالی مقام سے آ کر ملنے والے یہ اہل کوفہ ایمان
کے اعلی درجے پر فائز تھے۔
کربلا کے میدان میں
امام حسین کے جاں نثاروں میں سب سے زیادہ اہل کوفہ ہی شامل تھے ۔تاریخ میں بیالیس
سے پينتالیس اہل کوفہ کی فہرست موجود ہے جنہوں نے امام حسین کی آواز پر لبیک کہتے
ہوئے کربلا کے میدان میں شہادتوں کی داستان رقم کی ۔
امام حسین کو امام برحق
تسلیم نہ کرنے والے اہل کوفہ بیعت کے بعد نہ صرف مکر گے بلکہ کربلا کے میدان میں
امام عالی مقام کے مدمقابل کھڑے ہوئے اور ظلم عظیم کی داستانوں سے تاریخ میں لعنتی
کردار ٹھہرے ۔یہ اہل کوفہ بزدلی منافقت موقع پرستی اور خود غرضی کا استعارہ بن گے
۔آج جب بھی کہیں ظلم ہو رہا ہو اور عوام خاموش رہے تو اسے اہل کوفہ سے تشبیہ دی
جاتی ہے ۔
اللّه ہم سب کو ان اہل
کوفہ کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطاء کرے جنہوں نے میدان کربلا میں امام حسین علیہ
السلام پر اپنی جان وار کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مؤمن کبھی بزدل حریص اور مفاد
پرست نہیں ہوتا ۔اور ہر حال میں کلمہ حق کی صدا بلند کر کے اپنا نام تاریخ کے
سنہری حروف میں درج کراتا ہے ۔

No comments:
Post a Comment