What is the fastest thing in the world? Light or Gravity ? - Gul G Computer

For Motivations,Information, Knowledge, Tips & Trick,Solution, and Small Business idea.

test

Tuesday, August 1, 2023

What is the fastest thing in the world? Light or Gravity ?


What is the fastest thing in the world? Light or Gravity

What is the fastest thing in the world

روشنی کائنات کی سب سے تیز رفتار چیز ہے۔۔۔

اس کائنات میں ایک اور چیز بھی ہی جو روشنی کے برابر

رفتار رکھتی ہے۔۔۔ مگر وہ مغرور نہیں ہے

نہ چمکتی ہے، نہ لپکتی ہے اور آنکھوں کو خیرہ کرنا تو دور کی بات ہے، وہ تو آنکھوں سے ہی اوجھل رہتی ہے۔۔۔

خود نمائی نہیں شیوہ ارباب وفا

کی مثال ہے یہ چیز۔۔۔۔ یہ پسِ منظر میں رہتے ہوئے کائناتی استحکام میں اپنا مرکزی کردار ادا کرتی ہے

وہ چیز ہے "کششِ ثقل" جو لہروں کی صورت میں، اور روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔۔۔۔۔

کشش ثقل کی لہروں کو "ثقلی لہریں" اور مخصوص حلقوں میں "ثقلی تابکاری" بھی کہتے ہیں۔۔۔۔

روشنی اور کششِ ثقل کی کافی خصوصیات ایک دوسرے سے مماثل ہیں جیسا کہ

دونوں کی رفتار برابر ہے

روشنی (جو برقی مقناطیسی سپیکٹرم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے) لہروں کی صورت میں سفر کرتی ہے اور ذرات پر مشتمل ہے۔۔ اس کے ذرے کو فوٹون کہا جاتا ہے اور

کشش ثقل بھی لہروں کی شکل میں چلتی ہے اور ذرات پر مشتمل ہے۔۔ اس کے ذرے کو گریوٹون کہتے ہیں۔۔۔

(یہ فی الحال دریافت نہیں ہوا ہے)

دونوں کے ذرات برقی طور پر غیر چارج شدہ ہوتے ہیں۔۔۔

برقی مقناطیسی میدان کا کیریئر فوٹان ہے

تو ثقلی میدان کا کیریئر گریوٹون ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کشش ثقل کائنات کی چار بنیادی قوتوں میں سے ایک اور سب سے کمزور فورس ہے

کشش ثقل ہماری سوچ سے بھی زیادہ کمزور ہے

یہ اتنی کمزور ہے کہ

آپ زمین پر چلتے ہیں تو ہر اٹھتے قدم کے ساتھ پوری زمین کی کششِ ثقل کو مات دیتے ہیں

مقناطیس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اگر سٹیل کی ایک کیل کو زمین پر سے کھینچ کر اپنے ساتھ چپکا لیتا ہے تو اس چھوٹے سے ٹکڑے کی مقناطیسی کشش پورے سیارے کی ثقلی کشش سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔

اگر آپ اسکا موازنہ ریاضی کے حسابات کے ساتھ دوسری قوتوں سے کرنے لگیں تو اس کی کمزوری کا اندازہ آپ کے ہوش اڑا دے گا

کائنات کی دیگر تین بنیادی قوتوں میں سے

ایک قوت کمزور نیوکلیئر فورس ہے جو کشش ثقل سے 10²گنا زیادہ پرکشش ہے

دوسری برقی مقاطیسی قوت ہے یہ کشش ثقل سے 10³ گنا زیادہ طاقت ور ہے

اور تیسری بنیادی قوت مضبوط نیوکلیئر فورس ہے یہ کشش ثقل سے 10³گنا زیادہ مضبوط ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثقلی لہروں کا سب سے پہلے تصور 1915 میں البرٹ آئنسٹائن نے اپنے نظریہ کشش ثقل (جنرل ریلیٹیویٹی) کے ذریعے دیا۔۔۔

ثقلی لہریں در اصل اسپیس ٹائم فیبرک پر پڑنے والے خفیف ترین خم ہیں۔۔۔ جنہیں کسی آلے سے ڈیٹیکٹ کرنا تقریباً نا ممکن لگتا ہے اسلئے۔۔۔

اُنہیں یقین تھا کہ ثقلی لہریں کبھی دریافت نہیں ہو پائیں گی

مگر ایک صدی بعد انکا تصور حقیقت بن گیا جب 11 فروری 2016 کو پہلی بار ان ثقلی لہروں کا باقاعدہ مشاہدہ کیا گیا۔۔۔

لیگو_ورگو اشتراک کے ذریعے وصول ہونے والے ایک سگنل سے ان کا مشاہدہ کیا گیا جس کا منبع کائنات کے دور دراز علاقے میں موجود دو بلیک ہولز تھے جو قریب 3۔1 ارب سال قبل آپس میں مل گئے تھے

اس عظیم واقعہ نے اسپیس ٹائم کی چادر میں شدید ترین خم (ثقلی لہریں) ڈالے تھے جو اربوں سالوں تک برق رفتاری سے کائناتی وسعتوں کو پھلانگ کر اور اپنی زیادہ تر توانائی گنوا کر نہایت مدھم اور مختصر دورانیے (ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے) کے سگنل کی صورت ریکارڈ ہوئے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کشش ثقل کمزور ترین فورس ہونے کے ساتھ ایک انتہائی پراسرار چیز ہے

یہ مادی اجسام میں کیسے پیدا ہوتی ہے

اس کی رسائی کہاں تک ہے ماہرین کو کوئی درست اندازہ نہیں ہے۔۔۔

اس کی رینج یا رسائی کی بات کریں تو کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں کشش ثقل موجود نہیں ہو اس کی اسقدر وسیع پہنچ کو دیکھتے ہوئے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ کشش ثقل تمام جہتوں میں سفر کر سکتی ہے۔۔۔

ثقلی لہروں کا مطالعہ کشش ثقل کو سمجھنے اور اس کے بارے میں ہمارے درست نظریات کی تصدیق کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے

علاوہ ازیں ان لہروں کا مطالعہ ماہرین کو کائنات کو دیکھنے کا ایک الگ اور نیا انداز بھی دیتا ہے۔

ناسا کے مطابق

ثقلی لہروں کے مشاہدات کو برقی مقناطیسی سپیکٹرم کے مشاہدات کے ساتھ ملا کر فلکیات کی ایک نئی شاخ وجود میں آتی ہے جسے ملٹی_میسنجر اسٹرونومی کہا جاتا ہے۔۔۔۔

ثقلی لہروں کی پیمائش کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltec) اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے تعاون سے چلائی جانیوالی لیزر انٹرفیرومیٹر گریوٹیشنل ویو آبزرویٹری (LIGO) میں کی جاتی ہے

عمومی اضافیت(جنرل ریلیٹیویٹی) اسکے مطالعہ میں مزید گہرائی میں لے جاتا ہے

جو جسم جتنی کمیت رکھتا ہے وہ اسپیس ٹائم کی چادر پر اتنے گہرے خم ڈالتا ہے

اس کی وضاحت ربڑ کی چادر پر مختلف کمیت کی گیندیں ڈالنے کی مثال سے کی جا سکتی ہے

چھوٹے بڑے جسم اسپیس ٹائم کی چادر پر بالکل ایسے ہی خم ڈالتے ہیں جیسے آپ ایک تالاب میں چھوٹے بڑے کنکر پھینکتے ہیں اور مختلف سائز کی لہریں پانی میں چہار سو پھیلتی دیکھتے ہیں

لیگو کے مطابق۔۔۔۔ اس تھیوری کے حسابات بتاتے ہیں کہ بھاری کمیت کے دو تیز رفتار اجسام اسپیس ٹائم کی چادر میں شدید بگاڑ یا خلل پیدا کرتے ہیں اور یہ خلل، بگاڑ یا لہریں جو بھی نام دیں اپنے مرکز سے ہر طرف روشنی کی رفتار سے پھیلتی ہیں اور ان لہروں میں ان واقعات يا اشیاء کی ساری معلومات ہوتی ہیں جن کے سبب یہ پیدا ہوئیں۔۔۔

 


No comments:

Post a Comment