"The Third World War: A Global
Catastrophe
Unfolding"
مشرق وسطیٰ شعلوں کی لپیٹ میں
ایران جنگ نے طول کھینچا ، تو خطے میں شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ کی آگ میں جل رہا ہے پورا خطہ
جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ فی الحال کچھ پتا نہیں کہ یہ جنگ کتنے دن جاری رہے گے۔
حملہ آور اپنا ہدف حاصل کر پائیں گے یا
ایران اپنے دفاع میں کام یاب رہے گا۔ مگر
اس امر کا سب کو احساس ہے کہ اگرلڑائی نے
طول پکڑا تو پورے خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہو ں گے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل
نے ایران پر مشترکہ حملے کیے۔ جسے
"آپریشن ایپک فیوری " کا نام
دیا گیا ۔ جواباً ایران نے اسرائیل اور کئی عرب ممالک پر حملے کیے۔ اس جنگ کا سب
سے تکلیف
دہ پہلو یہ تھا کہ ایران کا رہبر
اعلیٰ ، علی خامنہ ای پہلے ہی حملے میں شہید
ہو گئے وہ ایرا نی انقلاب کے
بانیوں اور آیت اللہ خمینی کے انتقال پر
ایران کی سر براہی سنبھالی اور
37 بر س تک ملک پر
حکم رانی کی ۔ مشرق وسطیٰ میں ایرانی انقلاب
کے مقاصد آ گے بڑھانے میں ان کا
بنیادی کردار تھا اور وہی ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے بانی تھے۔ ایران کی
پالیسی ، فیصلہ سازی کی اصل قوت انہی کے پاس تھی ۔منتخب صدر اور اسمبلی کے باوجود تمام ادارے انہی کو جواب دہ تھے اور انہی کے الفاظ ایرانی
پالیسی پر حرفِ آخر تصور کیے جاتے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے ابتدائی پانچ دنوں میں
علی خامنہ ای سمیت ایران کی 48
اہم اور کلیدی شخصیات
نشانہ بنیں ۔ سپریم لیڈر کو نشانہ
بنائے جانے کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ پر ایک
"آل آؤٹ وار
" کا اعلان کر دیا ۔ جس سے جگن نے مزید شدت اختیار کی ۔ ایران نے
اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امیریکی
مفادات پر شدید فضائی حملے شروع کر دیئے۔ جن میں اُ س کے
مطابق بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔
اس جنگ کا ایک سنگیں پہلو یہ بھی
ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام چھوٹے بڑے ممالک ، بشمول سعودی عرب ، متحدہ امارات
، قطر ، بحرین ، کویت اور اومان ، سب ہی ایرانی میزائلز کا نشانہ بنے ، جب کہ اس کے ڈرون اور میزائل
تُرکیہ اور
آذر ئیجان تک بھی
پہنچے یہ الگ بات کہ ایران نے کئی حملوں
کے ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ۔ ایسے کئی حملوں میں سویلینز کا بھی نقصان ہوا ۔ جس پر ظاہر
ہے عرب ممالک کا شدید عمل سامنے
آیا۔
یاد رہے
امریکی فوجی اڈے مشرق وسطیٰ کے
تمام مملاک میں ہیں اور وہ انہیں دفاعی
چھتری فراہم کرتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ تیل کے ذخائر ہیں۔
جو دنیا بھر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی
کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عرب ، ایران
میں جو مفاہمت چین کی کوششوں سے دو سال قبل قائم ہوئی تھی ۔ جس کے تحت ریاض
اور تہران میں 14 برس بعد سفارتی تعلقات
قائم ہوئے اس جنگ میں بھک سے اڑ گئی ۔
عالمی سطح پر بر طانیہ اور یورپ یا دوسرے الفاظ میں نیٹو ، اس جنگ میں اس طرح شریک
نہیں ہوا جیسے عراق ، لیبیا اور
افغانستان کی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔
دوسری طرف ، روس خود یوکرین کی جنگ میں
بری طرح الجھا ہوا ہے اس لیے اپنے دیرینہ دوست، ایران پر حملوں کی مذمت ہی تک
محدود رہا۔ جب کہ چین نے بار بار بات چیت
پر زور دیا۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کی خارجہ پالیسی سخت آزمائش سے گزر رہی
ہے۔ کیوں کہ ایک مرتبہ پھر ایران اور عرب
جنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے سامنے
ہیں۔ اقتصادی طور پر یہ جنگ دنیا کے لیے بہت ہی بری خبر ہے۔ کیوں کہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ
اور دوسری اشیاء کی ترسیل میں رخنے کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک زیادہ تر متاثر ہوئے ۔ جن میں تیل اور ایل این جی کے
لیے عرب ممالک پر انحصار ہے۔ پاکستان کے
لیے ایک تشویش یہ بھی ہے کہ اس کے ساٹھ
لاکھ کے قریب شہری عرب ممالک میں ملازمتیں
کرتے ہیں اور اُن کے گھر بار انہی کی آمدنی
سے چلتے ہیں اس کے علاوہ جو چالیس بلین
ڈالرز کا زر مبادلہ آتا ہے۔ اس کی بھی زیادہ تر ترسیل عرب ممالک
ہی سے ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی معیشت
کا سب سے بڑا سہارا ہے وگرنہ قرضے اور امداد تو چند ارب سے زیادہ نہیں۔
امریکا اور ایران
کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ختم :۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہونے کے فور ا ً بعد ہی امریکا اور
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس لیے
ایران کا کہنا ہے کہ اسے دھوکا دیا گیا ۔
جب کہ امریکا کا الزام ہے کہ
ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تھا ان
مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے ایٹمی
پروگرام سے متعلق کوئی ذیل کرنا تھا۔ تاہم امریکا نے اُ س میں ایران کا بلاسٹک میزائل پروگرام
اور اس کی ملیشیاز کے معاملات بھی
شامل کر لیے۔ ایران کا ہمیشہ سے موقف رہا
کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پُر امن
مقاصد کے لیے ہے۔ 28 فروری کے حملوں میں امریکا اور اسرائیل
نےایران کی سیاسی و فوجی قیادت
ہلاک کرنے کے ساتھ ، کمانڈ اینڈ
کنٹرول اسٹر کچر تباہ کر نے کا دعویٰ کیا۔ اس کے ساتھ ہی دار الحکومت تہران سمیت
تقریبا تمام شہروںپر فضائی حملے کیے۔
امریکا اور اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف فوجی تنصیبات ہیں لیکن ایران
کے مطابق ، ان حملوں میں بڑی تعداد میں شہری بھی نشانہ بنے ۔ ایران
نے اس مرتبہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی۔ اُس نے پہلے ہی
وارنگ دی تھی کہ اگر اُس پر حملہ کیا گیا تو وہ اسے " آل آؤٹ وار
" تصور کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ
یں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ جس کی پہلے مثال نہیں ملتی ۔ یہ تنصیبات اس کے پڑوسی عرب ممالک میں ہیں جو
گزشتہ کئ سالوں سے ایران کا ساتھ بھی دیتے
آ رہے ہیں اور انہوں نے
امریکا اور اسرائیل کی کھل کر مذمت بھی کی
ہے۔
ایران کا اسرائیل اور امریکا پر تابڑ توڑ حملے :۔
بہر حال ، ایران نے
اپنی وارننگ پر عمل کر دکھایا ۔ اسرائیل پر
تا بڑ توڑ حملوں سے اس کے دار
الحکومت اور دوسرے شہروں میں بہت نقصان
ہوا ۔ فوجی اڈوں پر حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت
بھی ہوئی ۔ تاہم ہلاکتوں پر دونوں اطراف سے متضاد اعداد شمار سامنے آئے۔ لیکن یہ طے ہے کہ ایران نے اس مرتبہ پوری شدت سے
جوابی کاروائی کی ۔ سعودی عرب ، یو اے ای اور قطر میں انرجی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ جنہیں بعد
ازاں بند کر نا پڑ ا۔ امریکا کا
اکثر ممالک میں اپنے سفار ت خانے
بند کر دیئے یا پھرعملے کی تعداد میں کمی کر دی ۔
بڑے بڑے ممالک کا کاروباری نقصان :۔
دبئی جیسے شہر عالمی بزنس
میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں بلکہ یہ دنیا کا اہم ترین خطہ ہے ۔ بلکہ یہ
مشرق وسطی کا " بزنس حب" ہے۔
یہاں بھی ایرانی حملوں سے کاروبار زندگی
بری طرح متاثر ہوا ۔ سعودی عرب دنیا کا
سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے تو قطر سب سے زیادہ ایل این جی
فراہم کرتا ہے نیز ان عرب ممالک میں
خطے کے تمام ممالک کے لاکھوں
افراد روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں ۔ جو اپنے ممالک کو زر مبادلہ بھیجتے ہیں ۔ یوں جنگ سے
پورا خطہ
ہی متاثر ہوا ۔ پاکستان کے تقریبا
ہر تیسرے ، چوتھے گھر کا کوئی فرد کسی عرب ملک میں موجود
ہے اور یہ سلسلہ نصف صدی سے جاری ہے۔
آبنائے ہرمز آبی
گزر گاہ:۔
آبنائے ہرمز جو علاقے اور دنیا کی اہم آبی گزر گاہ ہے۔
اسے ایران نے بند کر نے کا اعلان کیا۔ یوں
سمندروں میں بھی جنگ چھڑ گئی
جس میں ایک دوسرے کے بحری جہازوں
پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو
مشرق وسطیٰ میں برسوں سے جس جنگ
کے پھیلنے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
وہ حقیقت بن گیا اور پورا علاقہ
جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا ۔ ظاہر ہے
۔ مشرق وسطیٰ تیل اور جغرافیائی اہمیت کے
پیش نظر دنیا کا اہم ترین خطہ ہے
ایران، مغربی ایشیا
، مشرقی اور وسط ایشیا کا ایک اہم
ملک ہے ۔ جس کی آبادی لگ بھگ نو کروڑ ہے تہران اس کا دار الحکومت اور دنیا
کے شہروں میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران کی زمینی سرحد میں عراق،
تُرکیہ ، آذر بائیجان ، آرمینیا ، بحیرہ کیسپین ، ترکمانستان ، افغانستان اور
پاکستان سے ملتی ہے۔ جب کہ سمندری حدود
میں خلیج اومان اور خلیج عرب آتے
ہیں ۔ اس کے 31 صوبے ہیں اور یہ ایشیا
کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ ایران کا بڑا
حصہ پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے ۔ جسے "
پلیٹو" کہا جاتا ہے جب کہ میدانی
علاقے ، صحرا اور دریا بھی موجود ہیں۔ ایشا کا سب سے اونچا آتش فشاں ایران ہی میں
ہے۔ میدانی علاقے زیادہ تر کیسپین سی ،
خلیج عرب اور خلیج اومان کے ساتھ ہیں
ایران کے پاس دنیا کی اہم آبی گزر
گاہ ، " آبنائے ہرمز" بھی ہے۔ یہ خلیج اومان اور خلیج عرب کے درمیان وہ واحد راستہ ہے
جو ارد گرد کے ممالک کو بحر ہند اور ریڈ
سی تک راہ داری فراہم کرتا ہے آبنائے ہرمز سے دنیاکا 20 فی صد تیل اور
ایل این جی کے کنٹینرز گزرتے ہیں۔
ایران کابندر عباس اس کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ جب کہ دوسری طرف
اومان اور یو اے ای ہیں۔ ایران خطے کی بڑی بحری
طاقت بھی ہے ۔ اس لیے اس کا آبنائے ہرمز
پر مضبوط کنٹرول ہے۔ جب بھی اس علاقے
میں کوئی فوجی تنازع جنم لیتا ہے تو سب سے حساس صورت حال اسی سمندری گزر گاہ کی ہوتی ہے۔ اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی
ہوا ۔ دس سالہ ایران / عراق جنگ میں بی اس پر غیر معمولی دباؤ رہا ۔ 1979 میں ایران میں انقلاب آیا ۔ جس کے بانی آیت اللہ خمینی تھے ۔ نئے نظام میں فیصلہ کُن اختیارات رہبر اعلیٰ کے پاس ہیں جسے 86 ارکان پر مشتمل ایک رہبر کاؤنسل چنتی ہے۔ ایران میں سیاسی طور پر صدارتی
پارلیمانی نظام بھی ہے صدر کا انتخاب عوامی ووٹس سے کیا جاتا ہے۔
لیکن بطور امید وار اس کے نام کی منظور رہبر کاؤنسل
ہی دیت ہے۔ یعنی وہی شخص
الیکشن لڑسکتا ہے۔ جسے رہبر
کاؤنسل اجازت دے ۔ ارکارن پارلیمان کا انتخاب
بھی عوامی ووٹس سے ہوتا ہے تاہم
تمام عہدے رہبر اعلیٰ
کے تابع ہیں۔ ایرانی تہذیب دنیا
کی قدیم ترین تہذ یبوں میں سے ایک ہے یہ
ملک ایک زمانے میں سپر پاور تھا۔
فردوسی کا شاہ نامہ
رزمیہ شاعری کا ایک عظیم شاہ کار ہے۔ جس میں قدیم ایران کی شان
و شوکت کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں ۔اسلام آنے کے بعد ایران، مسلم دنیا
کا ایک اہم ملک بن گیا۔ ایرانی عوام اپنی
تہذیب اور اس کی روایات پر بہت فخر کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہاں اب بھی نوروز
کا جشن پورے زور شور سے منایا جا تا
ہے۔ یہ دنیا میں تیل پیدا کرنے والا چوتھا
بڑا ملک ہے۔ یہاں بر طانیہ کی برٹش
پیٹرولیم کمپنی نے تیل نکالا لیکن بعد میں اسے قومیا لیا گیا ۔
ایک زمانے تک ایران اپنے تیل کی وجہ سے دنیا کے امیر ممالک میں
شامل رہا۔ اسے " پولیس مین آف مڈل
ایسٹ" بھی کہا جاتا تھا۔ تاہم جب
ایران اور عالمی قوتوں کا نیو کلیئر
معاملات پر تنازع شروع ہوا تو اس پر اقتصادی پابندیاں لگنی شروع ہو گئیں۔ ان طاقتوں
کا الزام ہے کہ ایران ایٹمی
ہتھیار بنا رہا ہے جسے وہ مسترد کر تا چلا
آ رہا ہے۔ اقتصادی پابندیوں نے اس کی
معیشت کم زور کر دی ۔ قدر 6 لاکھ فی ڈالر تک گر چکی ہے۔ جس کی وجہ سے افراط زر ، بے روز گاری اور مہنگائی نے عام کو شدید ترین مشکلات
سے دو چار کر دیا۔ دو ماہ قبل
وہاں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج
بھی ہوئے جس سے متعلق صدر مسعود پز شکیان کا کہنا تھا کہ ان میں سے چالیس فیصد مطالبات پر غور ہونا چاہیے۔ اس احتجاج میں ہزاروں
شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم رہبر اعلیٰ
اور حکام کا کہنا تھا کہ یہ سب صدر
ٹرمپ کے اکسانے پر ہوا ۔ معاشی کم زوری کی
عکاسی گزشتہ بیس سال سے صدارتی انتخابات میں بھی ہوتی رہی ۔ صدر روحانی سے صدر پز شکیان تک سب کا منشور
مغربی طاقتوں سے بہتر تعلقات قائم کر کے اقتصادی پابند یوں سے چھٹکا را حاصل کرنا رہا۔ تاہم ایران کے سخت گیر عناصر مغرب پر
کسی قسم کا بھروسا کرنے کے مخالف
رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ہمیشہ دھوکا دیا۔ صدر
روحانی اپنے دور میں بڑی مشکل سے
نیو کلیئر ڈیل میں کام یاب ہوئے۔ جس سے
ایران کو کچھ ریلیف ملا۔ لیکن بعد ازاں
صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ
ڈیل ختم کر دی ۔ بعد ازاں خبریں آ تی رہیں
کہ ایران یو رینیم افزودگی کو بم گریڈ تک
کرنے کے بالکل قریب ہے۔ جس سے وہ انکاری
رہا۔ تاہم ایٹمی ایجنسی نے بھی ایران
کے ایٹمی پروگرام پر شک و شبے کا
اظہار کیا۔ ایران کا یہی ایٹمی پرو گرام
جنگ کی وجہ بنا۔ صدر ٹرمپ ک اکہنا
ہے کہ وہ کسی صورت ایران کا ایٹمی
طاقت نہیں بننے دیں گے۔ ایران کے
انقلاب کے بعد سے امریکا اور مغربی
ممالک سے تعلقات خراب ہی رہے۔ ایران نے ایک خاص جارحانہ خارجہ حکمت عملی
اپنائی ۔ جس کے تحت دفاع پر خصوصی
توجہ دی گئی۔پاسداران انقلاب قائم کی گئی ۔
جس کا مقصد انقلاب کی حفاظت کرنا تھا۔
یہ فورس فوجی بھی ہے اور اندورنی
دفاع کی ذمے دار بھی ۔اس کے تحت ایران نے
مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں مسلح تنظمیوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا
اور پھر ان کی مدد سے اپنے اثرو
رسوخ میں اضافہ کیا۔
یہ جنگ کب تک جاری
رہے گی؟
اس سے متعلق کچھ بھی
کہنا مشکل ہے۔ لیکن اس کے منفی اثرات نے
ابتدائی دنوں میں ہی دنیا کو اپنی
لپیٹ میں لے لیا ۔ جو مزید بد سے بد ترین شکل اختیار کر
تے جائیں گے۔ پاکستان کا تیل و گیس
کے حصول کے لیے مکمل انحصار سعودی
عرب ، قطر اور یو اے ای پر ہے اگر
ان ممالک کی تنصیبات نشانہ بنتی
رہیں اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ
یا تعطل آ جاتا ہے تو اِس صورت حال سے پاکستان جیسے معاشی طور پر کم زور ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔ جہاں کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے غیر معمولی بوجھ تلے پِس رہے ہیں۔ روز مرہ استعمال
کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کس
طرح بیلنس کیا جائے ۔ یہ اتنا بڑا چیلنج
ہے کہ حکومتیں تک ہل کر رہ جاتی ہے ۔ پھر وہ معاشی دباؤ کے
ساتھ سیاسی عدم استحکام کا خطرہ
بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ جنگ
طول کھنچتی ہے۔ یا اس میں انرجی ذرائع
پر حملے جا ری رہتے ہیں۔ تو اس سے
امریکا ، یورپ اور بڑے ممالک کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
لیکن غریب ممالک جو پہلے ہی بمشکل
گزار ہ کر رہے ہیں شدید ترین
مشکلات کا شکار ہو جا ئیں گے اسی لیے یہ جنگ
چاہے بلکہ سفارتی سطح پر
بھر پور کوششیں بھی ضروری ہیں۔بہت سے تنازعات دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں
تو بہتر ہو گا کہ انہیں آہستہ آہستہ اور برد باری سے حل کر کے دنیا کو مستحکم ، عوام کو محفوظ کیا جائے اور
حالات معمول پر لائے جائیں۔

No comments:
Post a Comment