India’s Economic Growth and Global Trends | India’s Growth to Remain Resilient despite Global Challenges - Gul G Computer

For Motivations,Information, Knowledge, Tips & Trick,Solution, and Small Business idea.

test

Sunday, October 8, 2023

India’s Economic Growth and Global Trends | India’s Growth to Remain Resilient despite Global Challenges

 

India’s Economic Growth and Global Trends | India’s Growth to Remain Resilient despite Global Challenges

India’s Economic Growth and Global Trends
بھارت، امریکا اور مشرق وسطیٰ  کےمابین نئی تجار تی راہ داری

کیا اس سے حماس  اور اسرائیل کے تعلقات اچھے ہونگے؟

کیا اس سے حماس اور اسرائیل کی جنگ بندی ہو جائے گی؟

حماس کا اسرائیل پر حملہ اور اسرائیل کا حماس پر حملہ کب ختم ہوگا؟  

سی پیک کے لیے ایک نیا چیلنج، پاکستان کو خارجہ پالیسی کےمیدان میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔

نیو دہلی  میں ہونے والے جی 20 کے مشترکہ  اعلامیے سے زیادہ اس اکنامک کوریڈور نے اہمیت اختیار کر لی ہے جس کا مقصد بھارت امریکا، اور مشرق وسطیٰ کو تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ اس کو ریڈور کا اعلان جی 20 اجلاس کے موقعے پر سامنے آیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک تاریخی ڈیل ہے جو مشرق وسطیٰ میں خوش حالی کا ذریعہ ہے اس کوریڈور کی اقتصادی اہمیت  تو ہے ہی جب کہ اس کی سیاسی اہمیت بھی کچھ کم نہیں ۔ خاص طور پر اگر اسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کےپس منظر میں دیکھا جائے تو اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔

سعودی عرب اور ایران جنگ بندی  

چین نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں خاصی پیش رفت کی ہے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والال معاہدہ اُسی کی کوششوں سے سامنے آیا  جس کے تحت دونوں ممالک نے چھے ماہ سے بھی کم عرصے میں تہران اور ریاض میں اپنے اپنے سفیر تعینات کردیئے ۔ دونوں کے درمیان تلخی ختم اور اب دوستی اور تعاون کی باتیں ہو رہی ہیں۔

یمن میں جنگ بندی

 اس معاہدے کے نیچے میں یمن میں بھی جنگ بندی ہو گئی ۔ چین کے صدر شی جن پنگ نےسعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ جس کے دوران سرمایہ کاری کے بڑے معاہدے ہوئے۔ تجزیہ کاروں کی طرف سے کہا گیا کہ شاید اب مشرق وسطیٰ میں مغرب اور امریکا کا کردار ختم ہو گیا،

حماس ، اسرائیل ، ایران اور روس میں جنگ بندی

 خطے میں دھڑے بندنیاں سامنے آنے والی ہین۔ جن میں چین سعودی عرب ، ایران اور روس کا کردار اہم ہو گا۔ یہاں تک پیش گوئی کی گئی کہ سی پیک قدیمی شاہ راہ ریشم بن جائے گا اور علاقے  کی ساری تجارت اسی کے راستے ہو گی۔ اصل میں اس قسم کے تجزیے حقیقت سے زیادہ خواہشات اور ذاتی نظریات پر مبنی ہو تے ہیں

امریکی فوج کا کردار

 ہم بار ہا اس امر کی جانب اشارہ کر چُکے ہیں کہ امریکا اپنا فوجی کردار تو کم کر رہا ہے لیکن معاشی کردار میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ فوجی کردار میں کمی اس امر یکی سوچ کےتحت  ہے کہ وہ کیوں دوسروں کی جنگیں لڑے ۔ اُدھر عرب ، اسرائیل دوستی ، جو ٹرمپ دور سے شروع ہو ئی۔ اب خاصی گہری  جڑیں پکڑ چکی ہے۔ اور دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ پس پشت چلا گیا ہے۔ دراصل بعد از کو رونا دور میں کسی بھی ملک کے لیے تجارت اور اقتصادی بحالی اولیت اختیار کر چکی ہے اور مشرق وسطیٰ کی نوجوان لیڈر شپ کو اس کا ادراک ہے اس کی بہترین مثال سعودی ولی  عہد، شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔ وہ نہ صرف معیشت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اس ضمن میں انتہائی مشکل ا ور نا مقبول فیصلے کرکے انہیں منوانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ عرب دنیا کو جمال عبد الناصر کے بعد اتنا مقبول لیڈر شاید ہی کبھی ملا ہو۔ نئے اکنامک کو ریڈو میں عرب کو مرکزی کردار دیا گیا ہے۔ تاہم اس کا فائدہ دونوں کونوں پر موجود ممالک کو ہوگا۔ مشرق میں بھارت اور مغرب میں یورپ اور امریکا اس سے مستفید ہو ں گے۔ ایشیائی ممالک کے پاس ایک نیاآپش آ گیا ہے۔ کہ وہ کس روٹ سے تجارت کرنا  چاہیے تھے۔  

اس کوریڈور کا اعلان بھارت کے وزیر اعظم ، نریندر مودی نے دہلی میں جی 20 اجلاس کے دورنا کیا۔لیکن حقیقت میں اس کی داغ بیل دو سال قبل اسپین میں ہونے والے نیٹو اور مغربی ممالک  کے اجلاس میں پڑگئی تھی مگر اس وقت اسے "بلڈ بیک بیٹر ورلڈ" کا نام دیا گیا تھا اور اس مقصد کے لیے فنڈزکا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ کم ترقی یافتہ ممالک کو امداد دی جائے گی تاکہ وہ عالمی ترقی کا حصہ بن سکیں۔

چائنہ کے سی پیک کا کاؤنٹر

ناقدین نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ منصوبہ چین کے سی پیک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے سامنے لایا گیا ہے نیٹو ممالک  نےیہ بات چھپائی بھی نہیں کہ انہوں نے اسی اجلاس میں روس کو دشمن اور چین کو تجارتی حریف قرار دیا تھا۔ اس منصوبے میں اس وقت بھارت، عرب ممالک اور اسرائیل شامل نہیں تھے۔ لیکن جب دو سال بعددہلی میں اس کا اعلان ہوا تو اب یہ تینوں ممالک اِس میں شامل ہیں۔ یہ عالمی معاہدہ بنیادی طور پر ایک انفرا سٹریکچر منصوبہ ہے ۔ اس میں بہت سی تعمیرات شامل ہیں جیسے بندر گاہیں اور یل نیٹ ورک ،مشرق وسطیٰ میں مال کی ترسیل کے لیے سمندر ی راستوں کا استعمال ہوتا ہے کہ وہاں ریلوے نیٹ ورک کم زور ہے۔ اب اس منصوبے  کے ذریعے نیٹ ورک کی مضبوطی سے سامان خشکی کے راستے لے جانا آسان ہو جائے گا اور یہ ایک اہم متبادل روٹ بن کر سامنے آئے گا۔ اس وقت بھارت اور اس کے آس پاس کے ممالک کا مال سوئیز نہر کے ذریعے یورپی ممالک تک پہنچتا ہے۔ اب یہ سمندر اور خشکی ، دونوں راستوں سے وہاں جائے گا۔ جو ایک انقلابی پیش رفت ہو گی۔ گویا ماضی بعید کے اسپائسی روٹ یا گرم مسالوں کی شاہ راہ جوجدید ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے بحال کیا جا رہا ہے۔ برا عظم امریکا کے ممالک کو مال نہر سوئیز ، بحرِ روم سے بحرِ اوقیانوس کے راستے پہنچتا ہے۔ یہ مال کینڈا اور لا طینی امریکا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق ،اس نئے معاہدے پر عمل کے بعد بھارت ، اُس کے آس پاس کے ممالک اور دیگر ممالک سے چلنے والے کنٹینرز پہلے دبئی جائیں گے وہاں سے بذریعہ ٹرین اسرائیل  بندر گاہ  حیفہ پہنچیں گے اور پھر حیفہ سے یورپ جائیں گے ، اس معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس ٹرانسپورٹیشن کے وقت اور خرچ میں کمی آئے گی، نہر سوئیز دنیا کا ایک اہم آبی راستہ ہے اور دس فی صد عالمی تجارت اسی کے ذریعے ہوتی ہے ۔ یہ گزر گاہ اِسی لیے فوجی اہمیت کی بھی حامل  رہی ہے اور اسی پر دوسری ، تیسری عرب، اسرائیل جنگیں ہوئیں، جب مصر نےا سے بند کر دیا تھا جنگ کی وجہ سے مہینوں عالمی تجارت بندر ہی ۔ دو سال پہلے نہر سوئیز میں ایک بڑا مال بردار جہاز پھنس گیا تھا جس کی وجہ سے عالمی تجارت ایک ہفتہ بند رہی۔ اطلاعات کے مطابق ، ایک زیر سمندر کیبل بھی نئے منصوبے کا حصہ ہے۔ جو ان ممالک کو باہم جوڑے گی۔ دفاعی نقطہ نظر سے وسیع اور مضبوط  ریلوے نیٹ ورک کا ہونا بہت کارآمد ہے ۔ کہ اس سے فوجی امداد پہنچانا ایک سستا اور آسان طریقہ ہے۔ ظاہر ہے، نئے منصبوے سے مشرق وسطیٰ میں روز گار کے مواقع بڑھیں گے اور ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے کسی بھی تنازعے کی صورت میں فضائی روٹ بند کرنا آ سان ہوتا ہے۔ مگر روز اور ریلوے لنک کی بندش مشکل ہے۔

ون بیلٹ اینڈ روڈ  مقابل بلڈ بیک بیٹر ورلڈ

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نیا منصوبہ چین کے ون بیلٹ اینڈ روڈ کا مقابل ہو گا؟ اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ چین نے بیلٹ منصوبے سے مشرق وسطیٰ ، یورپ ، افریقا اور لا طینی امریکا تک اپنے اثرات پھیلائے ہین۔ اس نے چین کی تجارتی بر تری اور سیاسی  کردار کو بہت فعال کیا اور اسے صحیح معنوں میں ایک بڑی طااقت کی شکل میں پیش کیا۔ اب یہ نیا منصوبہ اس کا مقابل بھی ہو سکتا اور مدد گار بھی۔ یہ بڑی طاقتوں کی سیاست اور علاقائی کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ ان معاملات کو کس طرح آ گے بڑھاتے ہیں تاہم، مغربی ممالک اسے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے جواب ہی کے طور پر لیں گے۔ بھارت ابھی تک بیلٹ ایند روڈ منصوبے  میں شامل نہیں ہوا۔ جب کہ  اس کی چین اور روس سے اچھی تجارت ہے۔ مغربی مبصرین بیلٹ منصوبے کو ایک ملک ، یعنی چین  کا منصوبہ کہتے ہیں ، جب کہ ان کے مطابق ،بھارت ، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والا نیا منصوبہ ملٹی لیٹرل ہے۔  کہ اسے بہت سے ممالک کی اونر شپ حاصل ہے۔ جس میں اُن کے ذمے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سرمایہ کاری ہو گی۔ گو کہ تجزیہ کار اس خدشے کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ ملٹی لیٹرل منصوبے جلد تعطل کے خطرات سے دو چار ہو جاتے ہیں کیوں کہ ہر بات پر بہت سے ممالک کی رضا مندی شامل ہونا ضرویر ہو تی ہے۔ جس میں کبھی ملکی مفادات ، تو کبھی علاقائی سیاست اور کبھی عالمی پیچیدگی فیصلہ سازی کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم ، اُن کے مطابق ، بھارت ، مشرق  وسطیٰ، یورپ منصبوے میں اجارہ داری کا امکان کم ہے۔ا ور ہر ملک چاہے گا کہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اُس کی اہمیت کے مطابق حصہ ملے، بین الا قوامی تجارت پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے۔ کہ نیا منصوبہ عالمی تجارت پر سیاسی اور اقتصادی طور پر اثر انداز ہو گا، کیوں کہ اس سے تجارت کے نئے اصول مرتب کرنے پڑیں گے۔ چین بیلٹ منصوبے ، تجارت اور ٹیکنالوجی میں بر تری کی وجہ سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اُسے عالمی معاملات میں مرکزی کر دار دینا ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ بیجنگ اس نئی پیش رفت پر کیا رد عمل دیتا ہے۔

چینی اور روسی صدر کا انکار

البتہ ایک واضع ہے کہ چین کی مشرق وسطیٰ  میں حالیہ پیش قدمی ضرور متاثر ہوگی۔ صدر شی جن پنگ اور صدر پیوٹن نے  دہلی میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں شرکت  نہیں کی، تو کیا اسے علامتی طور پر معاہدے کی مخالفت سمجھا جائے؟

مشرق وسطیٰ میں ، جو اس نئے منصوبے کامرکز ہوگا۔ گزشتہ دو برسوں میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں جنہیں اب زیادہ بہتر طور پر سمجھاجا سکتا ہے۔ خاص طور پر اسرائیل اور عرب ممالک کےتعلقات کی تفہیم خاصی آسان ہو گئی ہے۔ ٹرمپ جو بظاہر ڈیموکریٹس کے دشمن نمبر ایک  لگتے ہیں۔ ان تعلقات کی شروعات کا باعث بنےا ور پھر جا ئیڈن نے انہیں مزید وسعت دی۔ پالیسی تسلسل کی یہ ایک عالمی مثال ہے۔ جس سے حالات کا رخ موڑا جا  تا ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل میں تعلقات قائم ہوَ کیوں کہ وہ عرب دنیا کا  لیڈر ہے۔ اور ساتھ مسلم دنیا پر بھی اس کے گہرے اثرات ہیں لیکن اس مقصد کے لیے صدر بائیڈن کو سفارتی سطحپر بہت زیادہ محنت کرنی ہو گی۔ اندرون ملک بھی اور بیرون ملک بھی۔ ڈیموکریٹس انسانی حقوق کی بہت باتیں کرےت ہیں۔ جب کہ بھارت اور اسرائیل دونوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین  الزامات ہیں نئے راہ داری منصوبے میں اسرائیل کی بندر گاہ بہت اہم ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکا سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیاں ثالثی کی کوشش کر رہا ہے ۔  یاد رہے ایسی ہی کوششیں ٹرمپ کے آخری دور مین بھی کی گئی تھیں، جن کے بعد اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔جن میں متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مراکش اہم ہی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس نئی صف بندی میںپاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟

پاکستان کا کردار

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سی پیک میں چیک کے شراکت دار ہیں ۔ گو کہ ہم جی 20 کے رکن نہیں ، لیکن ہماری پورت سے تجارت کا بڑا ذریعہ نہر سوئیز ہے۔ واضح رہے  یورپ  ہمارا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ یعنی ہماری کل بر آمدات کا  کا 30 سے 35 فی صد کا تعلق یورپ سے ہے۔ بھارت، مشرق وسطیٰ ، یورپ کو ریڈور نے جہاں چین کے لیے چیلنجز پیدا کیے ہیں وہیں یہ پاکستان سے بھی متوازن ڈپلومیسی کا مطالبہ کر تاہے۔ چیں نے سی پک شاہ راہیں اور گوادر  پورٹ اس لیے تعمیر کیں کہ مال کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرے۔ اس ضمن میں بار بار وسط ایشائی ممالک کو  راہ داری فراہم کرنے کا ذکر آتا ہے۔ پاک، افغان سرحد کے ساتھ انڈسٹری کا فروغ اور سی پیک رُوٹ پر انڈ سٹریل زونز کا بھی اس معاملے سے گہرا تعلق ہے۔ تاہم افغانستان کی موجودہ صورت حال اور امریکی انخلا کے بعد اب پاک، افغان سرحد  پر انڈسٹری کا خواب ادھوراہ رہ گیا ہے اُدھر بھارت نے ایران اور افغانستان کے ساتھ مل کر چا بہار پورٹ کو ترقی دی جو گوادر کے بالکل سامنے ہے۔ اِسی بندر گاہ سے بھارت نے کابل تک اور بین الا تبدیلیوں سے متعلق سوچنے کی بھی فرصت نہیں، بس بیٹھے خیالی پلاؤ ہی پکاتےر ہتے ہیں۔ ڈپلو میسی ، خاص طور پر اقتصادی سفارت کاری کا تقاضا ہے کہ تمام ممالک سے تنازعات ختم کر کے اُن کے ساتھ چلا جائے، مگر  ہماری اس طرف بالکل بھی توجہ نہیں۔

ماہرینز کا تجزیہ

ماہرین کہا جاتا ہے۔ وہ ہمہ وقت بس جذبات ہی گرمانے میں لگے رہتے ہیں اور ایسے ایسے فرضی بلاکس کی پیش گوئی کرتے ہیں کہ جن کا دنیا میں تصور تک نہیں۔ لیکن جب حقیقت سامنے آتی ہے ( جیسے بھارت ، مشرق وسطیٰ ، یورپ  معاہدہ ، جس میں ہمارے قریب ترین دوست اور تجارتی پارٹنر شامل ہیں ) تو پھر سازشوں اور دوسروں کو الزامات دینے سے کام چلا یا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ عوام کو صاف اور سادہ الفاظ میں بتا دیا جائے کہ آج کی دنیا معیشت کی مضبوطی مانگتی ہے، جویہ ہدف حاصل کرلے ، تو سب اُس کے گرد گھومتے ہیں۔ وگرنہ اپنے بھی آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ سعودی عرب اور بھارت کی قربت  نے نئے منصوبے کو ٹھوس شکل دینے میں بہت مدد دی اور ہم اس امرکا ادراک ہی نہیں کر سکے کہ شہزاد ہ محمد  سعودی عرب کو بہت آ گے لے جانا چاہتے ہیں۔ ہمارے 62 فی صد نوجوان وہاں بہت کام آ سکت ہیں۔ اگر اُن کی اتنی ڈیمانڈ ہوتی کہ سپلائی مشکل ہو جاتی ، بہر حال، اس معاہدے نے علا قائی سیاست کو ایک نئی سمت دی ہے۔ سب کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا ۔ کہ امریکا اور مغرب کہیں نہیں گئے بلکہ اب اُن کے پاس اسرائیل کے ساتھ ساتھ، بھارت اور عرب بھی ہیں اور اس تناظر میں ہمارے یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔ کہ ہمیں اپنے ہم سایہ ممالک، خاص طور پر بھارت سے کیسے تعلقات رکھنے ہیں۔

 India’s Growth to Remain Resilient despite Global Challenges

India’s Economic Growth and Global Trends 

#India's #Growth #Economic #Global #Trends #Global_Challenges #Hamas_Isreal 

India's economic growth is increasingly intertwined with global trends, shaping its trajectory in the 21st century. As one of the world's fastest-growing major economies, India has attracted global attention. Its large and youthful population presents a demographic dividend, fostering innovation, consumption, and a burgeoning labor force.

Globalization has played a pivotal role, as India leverages its information technology and service sectors, becoming a hub for outsourcing and software development. However, India's economic growth also faces challenges, including income inequality, infrastructure gaps, and regulatory hurdles.

In a rapidly changing global landscape, India seeks to diversify its economy, promoting manufacturing through initiatives like "Make in India" and renewable energy through the "Green India Mission." Moreover, India actively engages in international trade agreements and climate initiatives, aligning with global trends such as sustainable development and digital transformation.

As India continues to navigate these global trends, its economic growth will be pivotal in shaping not only its own destiny but also contributing to the evolving global economic order.

Motivations,Information,Knowledge, Tips & Tricks, Solution, Business idea,News,Article,Islamic, Make Money,How to,Urdu/Hindi, top,Successes,SEO,Online Earning, Jobs, Admission, Online,

No comments:

Post a Comment