Hazrat Muhammad | Muhammad Wikipedia in Urdu | Biography, History, & Facts
امام الا نبیاء سید المر سلین ، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادت با سعادت
مقصود کونین محمد ﷺ مطلوب ِ دارین محمد ﷺ
آپ ﷺ کی بعثت تمام انسانوں پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔
اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کو ہر قسم کی نعمتوں سے
نوازا ، کائنات اور جو کچھ اس میں ہے، وہ سب اسی کے لیے بنایا لیکن اِ س پر کوئی
احسان نہیں جتایا، مگر جب اپنے پیارے محبوب ﷺ کی بعثت سے متعلق قرآنِ پاک میں
ارشاد فرمایا کہ" حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ
اُن کے درمیان ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے انہیں
پاک صاف بنائے اور اُنہیں کتاب اور حکمت
کی تعلیم دے، جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گم راہی میں مبتلا تھے"
( سورہ آل عمران 164)
اِس بات پر تمام علماء کرام متفق ہیں کہ رحمت دو عالم
محبوبِ دو جہاں، سرور کائنات ، فخر موجودات، خاتم النبیین حضور پر نور صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وآلہ وآصحابہ وسلم تمام اولاد ِ آدم علیہ السلام کے سردار ہیں، اور
انبیاء میں سب سے افضل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات با برکات خاندانی شرافت،
سماجی و شوکت ، بر گزید گی و فضیلت اور
انسانی خصائل و فضائل کا منبع تھی۔
بخاری شریف کی ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " مجھے یکے بعد دیگرے ہر قرن
کے بنی آدم کے بہترین طبقوں میں منتقل کیا جا تا رہا،یہاں تک کہ اس موجود قرن میں
پیدا کیا گیا"
مسلم شریف میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت کہ ہیں میں نے رسول حضور پر نور ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ " حقیقت یہ
ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو چُنا اور
اولاد ِ کنانہ میں سے قریش کو چُنا اور قرش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں
سے مجھے چُنا "
پس حضور پر نورﷺ کی ذاتِ گرامی اپنے سلسلہ نسب کی تمام تر
بر گزید گیوں اور عظمتوں کا نچوڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے حضرت
آدم علیہ السلام سے انبیاء و رسل کی بعثت
کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ حضور نبی کریم ﷺ پر آکر ختم ہو گیا۔
آپ ﷺ نے اسے ایک مثال سے یوں سمجھایا کہ میری اور دوسرے
تمام انبیاء علیہ السلام کی مثال اس محل کی سی ہے جس کے در و دیوار نہایت شان دار
اور عُمدہ ہوں لیکن اس دیوار میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو اور جب لوگ اس
محل کے گرد پھر کر عمارت دیکھیں تو اُس کی شان وشوکت اور درد و دیوار کی خوش نمائی
انہیں حیرت میں ڈال دے، مگر ایک اینٹ کے بقدر خالی جگہ دیکھ کر انہیں سخت تعجب ہو،
پس ، میں اس اینت کی جگہ کو بھرنے والاہوں ، اس عمارت کی تکمی میری ذات سے ہے اور
انبیاء علیہ السلام و رسل علیہ السلام کے
سلسلے کا اختتام مجھ پر ہو گیا ہے"
ایک روایت میں یہ الفاظ
ہیں کہ "پس میں ہی وہ اینٹ ہوں ( جس کی جگہ خالی رکھی گئی تھی ) اور
مَیں ہی خاتم النبیین ہوں"
(بخاری و مسلم)
انبیاء علیہم السلام چوں کہ مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ کی
طرف سے رسالت و نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں کچھ ایسے معجزات
بھی عطا فرماتا ہے جنہیں وہ اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کر
سکیں۔ آپ ﷺ سے پہلے انبیاء کرام کو جو بھی
معجزات دیئے گئے وہ اُ س زمانے میں ہی کے
لیے مخصوص تھے کہ نبی علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ معجزہ بھی ختم ہو
گیا۔ لیکن ہمارے پیارے نبی حضور پر نور ﷺ کو قرآن کریم کی صورت جو سب سے بڑا معجزہ عطا کیا گیا اُسے دائمی
حیثیت حاصل ہوئی ۔ حضور پر نور ﷺ کے زمانے
میں فصاحت و بلاغت کا زور تھا۔ عرب فصحا کا دعویٰ تھا کہ اُن کی فصاحت و بلاغت کے
سامنے دنیا کے تمام لوگ گونگے ہیں۔ جب حضور پر نورﷺ پر قرآنِ کریم نازل کیا گیا تو
اس کے سامنے سب کی فصاحت و بلاغت ڈھیر ہو گئی ۔ زبان دانی کا دعویٰ کرنے والے
مغلوب ہو گئے یہاں تک کہ عربکے نام و رفصحا ء تمام تر کوششوں کے باوجود قرآن پاک
کی چھوٹی سی سورت جیسا کلام بھی پیش نہ کر سکے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ"
ہر نبی کو معجزات میں سے صرف اتنا دیا گیا ۔ جس پر انسان ایمان لا سکے اور جو
معجزہ مجھے ملا وہ اللہ کی وحی ہے جو اُس نے میری طرف بھیجی ( اور جو ہمیشہ باقی
رہنے والی ہے) اور اس بناء پر مجھے یقین ہے کہ قیامت کے دن میرے ماننے والوں کی تعداد تمام انبیاء علیہ
السلام کے ماننے والوں سے زیادہ ہو گی ۔ ( متفق علیہ )
بخاری و مسلم کی ایک روایت کچھ یوں ہے کہ حضرت جابر رضی
اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ
نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں۔ جو مجھ سے پہلے کسی نبی اور رسول کو عطا نہیں ہوئیں۔
دوسری ساری زمین کو میرے لیے " مسجد" اور
پاک کرنے والی" قرار دیا گیا ۔ چنانچہ
میری اُمت کا ہر شخص جہاں نماز کا
وقت پائے
( اگرپانی نہ ہو تو
تییم کر کے ) نماز پڑھ لے۔
تیسری میرے لیے مال ِ غنیمت حلال قرار دیا گیا۔ جو مجھ سے
پہلے کسی امت کے لیے حلال نہیں تھا۔
چوتھی ۔مجھے شفاعتِ عظمیٰ عامہ کے مرتبے سے سرفراز کیا گیا
اور پانچویں چیز یہ کہ مجھ سے پہلے ہر نبی کو اپنی طرف
بھیجا جاتا تھا۔ جب کہ مجھے روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا۔
مسلم شریف کی ایک روایت
میں چھٹی فضیلت یہ بیان ہوئی ہے کہ مجھے جوامع الکلم عطا ہوئے"
جب کہ اس روایت میں شفاعت کے مرتبے کی بجائے مجھ پر انبیاء
کا سلسلہ ختم کیا گیا" کے الفاظ ہیں
جوامع الکلم کی خصوصیت یہ ہے کہ چند الفاظ پر مشتمل چھوٹے
سے جملے میں معانی کا ایک جہاں چھُپا ہوتا ہے
یا یوں کہہ لیں کہ سمندر کوزے میں بند ہو ہوتا ہے۔جیسے " انا الا عمال با لنیات" یا " الدین النصیحہ"
قیامت کے دن بھی تمام
انسانی کمالات و صفات اور تمام تر عظمتوں کا مظہر آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہی
ہو گی اُس دن مخلوقات میں سے کسی کا درجہ
آپ سے بلند ہو گا اور نہ ہی آپ ﷺ کے علاوہ کوئی ذات سر داری اور سر براہی کی
مستحق قرار پائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا ۔ " میں قیامت کے دن تمام اولاد آ دم کا سردار ہوں گا۔ اور میں ہی سب
سے پہلے قرب سے اٹھو گا۔ نیز میں سب سے
پہل شفاعت کروں گا اور میری ہی شفاعت سب سے پہلے قبول ہو گی" (مسلم)
اُمت محمدیہ ﷺ کی تعداد قیامت کے دن سب سے زیادہ وہ گی۔ اس
ضمن میں مسلم شریف کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے۔ کہ
رسول کریم ﷺ نے فرمایا " قیامت کے دن پیغمبروں میں سے جس پیغمبر کے ماننے
والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی وہ میں ہوں گا۔ اور جنت کا دروازہ
سب سے پہلے جو شخص کھٹکھٹائے گا، ( یعنی کھلوائے گا ) وہ میں ہوں گا"
جامع ترمذی میں آپ ﷺ سے روایت ہے کہ "قیامت کے دن حمد کا جھنڈا ( لو اء الحمد
) میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا اُس دن کوئی بھی نبی
خواہ آدم علیہ السلام ہوں یاکوئی اور ایسا نہیں ہو گا جو میرے جھنڈے کے نیچے نہیں
آئے گا" واضح رہے کہ آپ ﷺ کی "حمد" ہے کہ ساتھ ایک خاص نسبت ہے۔
آپ کا اسم گرامی محمد ﷺ اور احمد ﷺ ہے۔ آپ ﷺ صاحب مقام
محمود ہیں آپ ﷺ کی امت " حما دین" کہلاتی ہے یعنی وہ لوگ جو ہر حالت میں
خوشی ہو یا غم اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا
بیان کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات با برکات قیامت کے دن حامد بھی ہو گی اور محمود
بھی اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی حمد ہی کے ذریعے
شفاعت کی اجازت حاصل کریں گے۔ ترمذی ہی کی ایک روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا ۔ " میرے لیے اللہ تعالیٰ نے وسیلہ
" مانگا کرو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عر ض کیا کہ
" یا رسول اللہ ﷺ ! یہ وسیلہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا " جنت کے سب سے بڑے
درجے کا نام ہے جو صرف ایک شخص کو ملے گا
اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ شخص میں ہوں "
در حقیقت حضور پر نو ﷺ کا امت سے اپنے لیے دعا کروانا کسر
نفسی کے طور پر ہے یا اس کا یہ مقصد ہے کہ اگر امت اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گی تو
اس سے اسے ہی اجر و ثواب کی صورت فائدہ ہو گا۔ ( واللہ اعلم و رسول علم)
آنحضرت ﷺ قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام کے سردار ہوں گے اس بات کی تائید
اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جب قیامت کا
دن ہو گا تو میں
( مقام محمود میں
کھڑا ہو ں گا) تمام انبیاء کا اما و پیشوا ہوں گا۔ اور میں اُن کی ترجمانی کروں گا
اور شفاعت و سفارش کروں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا" ( ترمذی)
حضور پر نور ﷺ کی امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کتاب جنت
میں داخل ہوں گے اور یہ فضیلت آپ کے علاوہ کسی دوسرے نبی کے لیے چابت نہیں۔ نیز
جنتیوں میں امت محمدیہ ﷺ کا تنا سب بھی سب سے زیادہ ہو گا۔ جیسا کہ فرمایا "
جنتیوں کی ایک سو بیس صفین ہوں گی جن میں سے 80 صفین اس امت ( امت محمدیہ ﷺ) کی
ہوں گی اور چالیس صفین دوسری امت کے لوگوں کی ہوں گی " ( مشکوۃ شریف)
"سدرہ المنتہیٰ " جس کے پر ے کیا ہے کسی کو علم
نہیں اس سے آ گے فرشتوں تک کو جانے کی اجازت نہیں۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی آخری رسائی یہیں تک ہے لیکن حضور پر نور ﷺ
معراج کی رات اس سے بھی آ گے گئے یہ فضیلت بھی آپ ﷺ ہی کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بلا واسطہ کلام سے سرفراز ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا " قیامت کے دن مجھے
جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا اور پھر عرش الہی کے دائیں جانب کھڑا
ہوں گا جہاں میرے سوا مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہوگا" (ترمذی)
جسم و روح کے ساتھ معراج حضور پر نور ﷺ کا ایک خصوصی شرف ہے
کہ یہ مرتبہ کسی اور نبی یا رسول کو حاصل نہیں ہوا۔ حضور پر نورﷺ کا یاک خصوصی شرف
ہے کہ یہ مرتبہ کسی اور نبی یا رسول کو حاصل نہیں حضور پر نورﷺ کے اوصاف سابقہ آسمانی
کتب میں بیان کیے گئے اور بہت سے مناقب و فضائل قرآن پاک میں بھی بیان ہو ئے ہیں
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کی
نسبت فرمایا " ہم نے ہر نبی کو اُس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ قوم
کے سامنے اللہ کے احکام و قوانین بیان کرے" جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب
ﷺ سے متعلق ارشاد فرمایا" ( اے پیغمبرﷺ) ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے رسول
بنا کر بھیجا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو " کوثر " عطا کی۔ لفظ "کوثر
" وسیع المعنی ہے۔
بلا شبہ محبوب دو جہاں سید المر سلین خاتم النبیین ﷺ کی
فضیلت تمام انبیاء پر ثابت ہے لیکن آپ ﷺ کی اِ س طرح فضیلت بیان کرنا ، جس سے کسی نبی کی توہین و تنقیص
لازم آ تی ہو، جائز نہیں کہ مقام رسالت بذات خود اتنا بلند اور عظیم ہے کہ دل و
زبان کو اس بارگاہ میں ہمیشہ مئودب رہنا
چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی
سنتوں کا پابند اور آپ کی پاکیزہ تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں اپنی رضائے
کاملہ اور آپ ﷺ کی شفاعت کبریٰ کی دولت عطا فرمائے
( آمین یا رب العالمین)

No comments:
Post a Comment