World Railway Track Business | railway track or smuggling track - Gul G Computer

For Motivations,Information, Knowledge, Tips & Trick,Solution, and Small Business idea.

test

Wednesday, November 6, 2019

World Railway Track Business | railway track or smuggling track

Railway Track Or  World Smuggling Track 
world Railway Track Business

World Railway Track Business | railway track or smuggling track


آخر کیا وجہ تھی کہ انگریزوں نے پوری دنیا میں عربوں ،کھربوں  کلو میٹر کے حساب سے ریلوے لائین بیچھائیں اور جب وہاں سے گئے تو پیچھے صرف اور صرف ریلوے چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم جیسا کوئی بندہ ہوتا تو پوری کی پوری لائین اکھاڑ کر لے آتا ۔ لیکن انگریزیوں سے ایسا نہ کیا۔ اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے کروڑوں لگائیں اور کھربوں کمائیں۔ آج اگر انگریز اتنے ترقی یافتہ ہیں تو صرف اور صر ف اس ریلوے لائیں کی بدولت ۔ بات اس وقت شروع ہوئی جب انگریزوں نے برصغیر پاک ہند میں قدم رکھے اور دوسری جانب افریقہ میں اپنے پنجے مضبوط کرنے شروع کر دیے۔ انگریز چونکہ سازش کرنے اور ہر وقت ذہنی فتور کے ذریعے اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی یہ سازش تب سامنے آئے جب انہی کی  ایک جاسوس لڑکی نے اپنے معشوق کو پیار کے جھانسے میں آکر کر بتانا شروع کر دیا۔ اگر آپ انگریزوں کی انہی کی لکھی ہوئی کتاب دی گریٹ  گیم کے نام سے مشہور ہے  کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ انگریزوں کا ریلوے لائن بیچھانے کا مقصد کیا تھا ۔
انگریزوں کے اپنے ملک میں ناہی ترقی کرنے کے علم تھا اور نہ ہی سامان تو پھر ان لوگوں نے سوچا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے جس کی بدولت انگریز زیادہ ترقی یافتہ ہو سکے ۔ ان کی جاسوسی کی میٹنگ جاری تھی جس کے تحت انہوں نے ایک باقاعدہ تنظیم بنائی جس کا مقصد پوری دنیا سے معلومات اور چوریاں کرنا ہےا ور دوسرا وہاں کے علم کو بھی چوری کرنا جو آج تک ہوتا چلا آ رہا ہے۔ سب سے پہلے افریقہ کی بات کرتے ہیں دنیا کے سب سے مہنگا سے مہنگا پتھر جس میں   ہیرا ، وغیرہ اور اس کی قسم کے بہت سے نوادرات تھے ریلوے لائین بیچھا کر چوری کی گئی وہی کے لوگوں کو مزدوری پر رکھ کر انہی سے ہیرے نکلوا کر ریلوے کے ذریعے برطانیہ اور لند ن منتقل ہوتے گئے۔ جس پر آج ہائی وڈ کی بہت ہی مشہور فلمیں بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ  اگر برصغیر پاک ہند کا ذکر کیا جائے تو یہاں سے قیمتی جڑی بوٹیاں وغیرہ، پتھر ، وغیرہ شامل ہیں۔ اس دورمیں مختلف علاقوں میں اسسٹنٹ کمشنر وغیرہ بھیجے ہی ایسے جاتے تھے جن کو وہاں کی ہر جڑی بوٹی وغیرہ اور ہر قیمتی پتھر اور اس طرح کے ہر قیمتی چیز کا علم ہوتا وہ انگریزوں کے لیے کتابیں بھی لکھتا اور ان چیزوں کو چوری کروانے میں مدد بھی فراہم کرتا ۔ اسی طرح بلوچستان کے انتہائی مغرب میں واقع ضلع چاغی ، جغرافیائی و اقتصادی اہمیت کے سبب ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے یہ پاکستان کا واحد اور قیمتی ضلع ہے کہ جس  کی سرحدیں دو ممالک ، افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔ نیز 28 مئی 1998 کو پاکستان نے  چیف آف آرمی سٹاف  جنر ل پرویز مشرف کی زیر انتظام ایٹمی دھما کے کیے۔ 

World Railway Track Business | railway track or smuggling track

اور پھر حال میں ہی چاغی اس وقت زیادہ مشہور و معروف ہوا جب عالمی ذرائع ابلاغ کا موضوع بنا کر جب عالمی عدالت و انصاف نے 17 جولائی 2019 کو بھارتی جاسوس و دہشت گرد کل بھوشن یادیو کے مقدمے کا فیصلہ سنایا ۔
World Railway Track Business | railway track or smuggling track

 اور پھر حال ہی میں عالمی ثالثی عدالت نے ریکوڈک منصوبے میں بعض شقوں کی خلاف ورزی پر بلوچستان حکومت کو 6 ارب ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی ۔ واضح رہے ۔  کہ ریکوڈک منصوبے کے تھت چاغی میں موجود اربوں ڈالرز مالیت کے سونے و تابنے کے ذخائر کو بروئے کار لانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ تاہم بین الا قوامی کمپینیز اور حکومت بلوچستان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا اسی طرح چاغی کے علاقے ، نوکنڈی میں وسیع پیمانے پر پایا جانے والا ،ماربل اوٹیکس دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ اگر چاغی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتا چلتا ہے کہ جب مغل شہنشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست ہوئی تو وہ گجرات ( بھارتی ریاست) سے بہ راستہ عمر کوٹ گندا وا ، سبی اور ڈھاڈر یہاں پینچے ، تب چاغی ایک آزاد قبائلی علاقہ تھا۔ البتہ اس پر قندھار کے گورنر کا اثرو رسوخ ہوتا تھا۔ ہمایوں اپنے لٹے پٹے قافلے کے ساتھ چاغی کی ایک با اثر شخصیت ، ملک خطی کے ہاں مہمان ٹھہرے ۔ تب ہماریون کے سوتیلے بھائی ، میر زاد کا مران قندھار کے گورنر کر کے قندھار پہنچا دیا جائے ملک خطی چاہتا تو ہماریوں کو ان کے سوتیلے بھائی کے حوالے کر کے انعام و اکرام حاصل کر سکتا تھا۔ مگر وہ مقامی قبائلی روایات کا امین تھا ۔ جن کے تحت مہمان کو دشمن کے حوالے نہیں کیا جاتا ۔ لہذا اس نے زاد راہ تیز رفتار گھوڑے اور محافظ فراہم کر کے ہمایون کو ایران روانہ کیا اور ساتھ ہی گورنر قندھار کو یہ تسلی بھی دی کہ جب ہمایوں چاغی آئے تو اس کے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔ اس وقت اگر ملک خطی دبائو یا لالچ میں آکر شہنشاہ ہمایوں کو گورنر قندھار کے حوالے کر دیتا تو آج ہندو ستان کی تاریخ مسلمامختلف ہوتی ۔ کویں کہ ہمایوں نے ایران پہنچ کر وہاں کے شہنشاہ ، طہما سپ سے مدد حاصل کی اور اس کے نتیجے میں دوبارہ اپنا تخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ خان آف قلات کے دور میں بھی چاغی مختلف قبائل کی آماجگاہ تھا۔ گرچہ یہ تمام قبائل احتراما ً خود کو خان آف قلاب کے زیر نگیں تصور کرتے تھے۔ مگر عملی طور پر یہاں ریاست قلات کا عمل دخل برائے نام ہی تھا۔ 19 ویں صدی کے اوائل میں انگریزیوں نے اپنی بین الا قوامی ضرورتوں کے تحت اس علاقے پر توجہ دینا شروع کی تو اس دوران پوٹینگر، میسن ، چارلس نیپیئر ، جان جیکب، رابرٹ سنڈیمن ، اور جنرل ڈائر نے تاج برطانیہ کے مفادات کی خاطر وقتا فوقتا مقامی باشندوں کی نفسیات ، علاقے کی جفرافیائی ساخت ، دست یاب و سائل اور مواصلاتی نظام سے متعلق تنفصیلات تاج بر طانیہ کو بھیجتے رہے اس موقعے پر کئی انگریز مستشرقین نے مقامی با شندوں کی سادہ لوحی کافائدہ اٹھا کر انہیں عیسائی بنانے کی بھی کوشش کی ۔ لیکن مکتبہ وحانی ڈھاڈر سے وابستہ شخصیات اور دیگر علماء نے اپنی جدوجہد سے ان کی چالوں کو ناکام بنا دیا۔ یہاں دو انگریزوں ، ہینری پوٹینگر  اور جنرل ڈائر کا ذکر بے جانہ ہو گا۔ گو کہ دونوں کی چاغی آمد کے زمانے میں کم  وبیشایک صدی کا عرصہ حائل ہے۔ لیکن ان کے مقاصد ایک ہی تھے۔ یعنی بر طانوی سلطنت کے خلاف دوسری عالمی طاقتوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے مقامی طور پر اپنا رسوخ بڑھانا ، بہ وقت ضرورت تاج برطانیہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا اور مقامی باشندوں کو دشمن کا آلہ کار بننے کی بہ جائے تاج بر طانیہ کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا۔یہ 19 ویں صدی عیسوی کے آغاز کی بات ہے۔ تب ہندوستان پر بر طانیہ کا قبضہ ہو چکا تھا اور روس اور فرانس بھی  سونے کی چڑیا ، پر قبضے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ بر طانیہ نے شاہ ایران سے معاہدہ کیا کہ کسی غیر ملکی فوج کو ہندو ستان پر حملے کی غرض سے ایران سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جب کہ اس کے عوض بر طانیہ روس کے خلاف اریان کی مدد کے لیے اپنی فوج بھیجے گا۔ مزید برآن ، ایران کو ایک لاکھ 20 ہزار پائونڈ کی نقد رقم بہ طور امدااد اور ایرانی فوج کو تربیت فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ۔ دراصل ، اس معاہدے کی آڑ میں بر طانیہ یہاں اپنی فوج کی بھاری تعداد رکھناچاہتا تھا۔ گرچہ روس کی ہندوستان پر حملے سے بازو رکھنے کے لیے بر طانیہ نے اس قسم کے کئی معاہدہ کیے تھے۔ لیکن یہ ناکافی تھے۔ لہذٰا اہداف کے حصول کے لیے جنرل میلکم جیسے زیرک شخص کا انتخاب کیاگیا ۔ جو ایران کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات رکھتا تھا۔ وہ 1810 میں ایک بار پھر کسی قسم کی مزاحمت کے بغیر ایران کے دار و الخلافہ پہنچا ، بہ ظاہر اس کا مقصد ایرانی فوج کو تربیت فراہم کرنا تھا۔  لیکن در پردہ ایران کی فوجی طاقت کا درست اندازہ لگانا چاہتا تھا۔ اور اس مقصد کے لیے بلوچستان اور افغانستان کے بیابنوں کا جائزہ لینا ضروری تھا۔ چناں چہ جنرل میلکم کے اور اس کے جاسوس نہایت رازی داری اور تحمل مزاجی سے اس مہم جوئی میں مصروف ہے۔ تقریبا ایک صدی تک و طاقت اور اقوام بر طانیہ اور روس کے درمیان وسط ایشیائ کے غیر آباد علاقوں میں خفیہ جنگ جاری رہی ۔ جسے دی گریٹ  گیم قرار دیا گیا ۔
World Railway Track Business | railway track or smuggling track

 اس ضمن میں لکھی گئی پیٹر باب کرک کی کتاب دی گریٹ گیم کے مطالعے سے ہمیں نہ صرف دو صدیاں پہلے کے بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت ، معاشرت معیشت اور مذہبی اقدام کا پتا چلتا ہے بلکہ دنیا کی طاقت اور اقوام کی نفسیات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ دو دوسری اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ آج بھی بلوچستان اپنے جغرافیے کے باعث عالمی طاقتوں کے نام نہاد عظیم کھیل کا میدان بنا ہوا ہے۔ بہر کیف ، 1810 کے موسم بہار میں دو جاسوس چاغی کے علاقے، نوشکی پہنچے ۔ انہوں نے خود کو گھوڑوں کے تا تار  تاجروں کے طور پر متعارف کروا کے مقامی با شندوں کا اعتماد حاصل کیا ۔ ان میں سے ایک اپنے محافظین کے ساتھ ہر ات ، جب کہ دوسرا کرمان کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ دونوں بر طانوی فوج کے آفیسر ز کیپٹن چارلس کر سٹی اور لفٹینٹ ہینزی پوٹینگر تھے۔ 
World Railway Track Business | railway track or smuggling track


اور انہیں جنرل میلکم نے ان کی زندگی کی اہم ترین مہم پر روانہ کیا تھا۔ تین ماہ بعد 30 جون 1810 کو یہ دونوں  جاسوس ، اریانی شہر اصفہان میں ایک دوسے سے ملے کرسٹی نے گھوڑے پہ سوار ہو کر دنیا کے خطر ناک ترین علاقے میں 2،250 میل کا سفر طے کیا تھا جب کہ پوٹینگر نے کرسٹی سے بھی 160 میل سے زائد کا سفر کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے علاقے کے بارے میں سود مند معلومات اکھٹی کیں۔ جس پر انہیں سال کا بہترین افسر قرار دیاگیا۔ بعد ازاں لیفٹینٹ پوٹینگر کو ، تب جس کی عمر 21 بر س سے بھی کم تھی۔ مستقبل کے عظیم کھیل میں نہایت اہم ذمے داری سونپی گئی ۔ مشترکہ طور پر خفیہ رپورٹ مرتب کرنے کے علاوہ پو ٹینگر نے اپنی ولولہ انگیز مہم جوئی کی دستان کو تحریری شکل بھی دی۔ اس ی طرح مرات سر کے جلیانوالہ باغ میں قتل عام کرنے والے بدنام زمانہ بر یگیڈ یئر جنرل ڈائر کی تصنیف کردہ کتاب بھی ایک ایسی ہیمہم کی رو داد ہے جو پہلی عالمی جنگ کے دوران فارس اور بلوچستان کے سر حدی رہزنوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور دھونس ، دھمکیوں سے عبارت ہے۔ یہ ریڈز آف دی سر حد کے نام سے 1921 میں لندن سے شائع ہوئی۔ حکومت بر طانیہ کے حکم کی تعمیل میں جنرل ڈائر نے جب اپنی یہ مہم شرو ع کی تھی۔ تو اس وقت بلوچستان کی سر حدوں کا با ضابطہ تعین نہیں ہوا تھا۔ایران اور افغانستان کی جنوب مشرقی اورجنوب مغربی سر حدوںپر بلوچ قبائل اپنے اپنے سر داروں کے زیر اثر آ زدانہ زنگی بسر کر رہے تھے۔ معروف محقق و مصنف میر گل خان نصیر کے مطابق گرچہ اس علاقے میں ریکی ، یار محمد زئی ، اسماعیل زئی ، گمشاو زئی اور نارو ئی بلوچ قبائل آباد تھے۔ لیکن مجموعی طور پر یہ تمام قبائل دامنی کہلاتے ہیں۔ جنرل ڈائر نے ان بلوچ قبائل کے خلاف فروری 1916 میں اپنی ہتھاروں کی نمائش اور دھونس دھمکیوں کی مہم شروع کی ۔ جو پورے 8 ماہ تک جاری رہی ۔ اس مہم میں عیدو خان ریکی زئی نامی مقامی باشندے نے جنرل ڈائر کی معاونت کی۔ حد درجہ شاطر ہ چالاک عیدو خان نے مقامی قبائل کے سامنے انگریز اہل کار کی مصنوعی طاقت کا ایسا نقشہ کھینچا کہ وہ اس سے مرعوب ہو گئے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر جنرل ڈائر کو عیدو جیسا وطن فروش اور غدار نہ ملتا، تو وہ بلوچ قبائل کو بہلا پھسلا کر  اپنی طرف مائل کرنے اور دھونس دھمکیوں سے مرعوب کرنے میں اس قدر کا م یاب نہ ہوتا۔ یہ عید وہی کی کارستانی تھی کہ سادہ لوح بلوچوں نے پہلی مرتبہ موٹر کار دیکھنے پر اسے عجوبہ ، شیطانی آلہ اور تباہ کن جنگی ہتھیار قرار دے دیا تھا اور اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ جنرل ڈائر کی برائے نام فوج نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا۔ نتیجتا ً نوشکی سے شروع ہونے والا سفر ایران کے علاقے خواش میں انگریزون کی بہ ظاہر فح کی شکل میں ختم ہوا ۔ بعد ازاں جنرل ڈائر کی اس ڈائر کا ترجمہ بلوچستان کے نام ور محقق  ، تاریخ داں اور شاعر میر گل خان نصیر نے بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار اور گوریلا جنگ جو کے عنوان سے کیا۔ واضح رہے کہ بر طانوی حکومت 1876 سے کوئٹہ کے راستہ افغانستان اور پھر ایران کی سرحد تک ایک سٹریجٹک لائن کی تعمیر کے منصوبے پر کام کر رہی تھی۔ تاکہ فوج نقل و حرکت تیزی سے ممکن وہ سکتے۔ اس مقصد کےلیے سندھ کے شہروں ، سکھر اور شکار پور کے درمیان واقع رک سے ریلوے لائن تعمیر کا منصوبہ بنا یا گیا ۔ اس سلسلے میں ایرانی بلوچستان اور قلات کے مابین مورخہ 24 مارچ1896 کو معاہدہ حد بندی سر حدات طے ہوا ۔ بعد ازاں ضلع چاغی کا قیام اور 15 نومبر 1896 کو انگریز پولیٹیکل ایجنت ایف سی ویب ویئر کی تعیناتی عمل میں آئی  جولائی 1899 میں خان آف قلات ، میر محمود خان اور اے جی جی بلوچستان کےمابین معاہدہ نوشکی طے پایا جس کے تحت نوشکی کا انتظام و انصرام بر طانوی حکومت کے سپرد کیا ۔ جب کہ اس کے بدلے برنانوی حکومت ہر سال مبلغ 9 ہزار روپے خان آف قلاب کو ادا کرتی تھی۔ وائسرے ہند ، لارڈ کرزن نے سیستان اور کوئٹہ کے مابین تجارتی راستے کے زیرعے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دیا ۔ اور اپنے ایک افسر کپٹن چیونکس ٹرنچ کو ایران میں برٹسن ریذ یذنٹ مقرر کر دیا۔ علاوہ ازیں کوئٹہ میں ایرانی تاجروں کے لیے سیستان سرائے بھی قائم کی گئی ۔ تاکہ ایرانی عوا م سے روابط قائم کیے جائیں متذکرہ بالا اقدامات کا اصل مقصد افغانستان کی طرح ایران کی سرحد تک بھی اسٹرٹیجک ریلوے لائن کی تعمیر تھی  تاکہ بہ وقت ضڑور4ت فوج اور سازو سامان سے بھری بو گیاں ایرانی سرحد تک پہنچائی جا سکیں۔ سو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ تجارتی ریلوے لائن کی بہ جائے ایک مکمل ریلوے ملٹری فرنٹئیر سروس تھی ۔ نوشکی ریلوے لائن کوئٹہ سے 16 میل کی دوری پر واقع ، سپیر نڈ ریلوے اسٹیشن 1902 میں فعال ہوا۔ پھر 91 میل طویل ریلوے لائن نوشکی تک پہنچائی گئی اور 15 نومبر 1905 سے باق اعدہ ریلوے سروس شروع ہوئی۔ مذکورہ ریلوے لائن کی تعمیر پر ایک لاکھ رپوے فی میل کے حساب رقم صرف کی گئی اور ابتدا مینر وازنہ ٹرین چلا کرتی تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران جرمنی اور ترکی کے مابین اتحاد قائم ہوا۔ تو دونوں ممالک نے ایران اور افغانستان کے راستے بلوچستان ( برٹش انڈیا ) میں داخل ہونے کا منصبوہ بنایا ۔ جس کا ذکر پہلے کیا جا کستا ہے۔ اس موقع پر  برطانوی حکومت نے نوشکی ریلوے کو فوری طور پر مزید طویل کرنے کا فیصلہ کیا۔
World Railway Track Business | railway track or smuggling track


 یوں سمتبر 1916 نوشکی دالبندین سیکشن پر کا م کا آغاز ہوا۔ جس کی تکمیل یکم فروری 1917 میںہوئی۔ علاوہ ازیں مندرجہ ذیل منصوبے  بھی پایہ تکمیل تک کو پہنچے ۔ دالبندین ، تامیر جاوا ، (ایرانی سر حد) ریلوے لائن کی تعمیر اکتوبر 1920 اور میر جاوا ، زاہد ان ریلوے سیکشن کی تکمیل ( یکم اکتوبر 1922 ) ۔ ان منصوبوں کی تکمیل پر حکومت ہند اور تاج برطانیہ کو کم و بیش 4 کروڑ روپے کے مصارف برداشت کرنا پڑے ۔ یہاں ایک بات یاد رکھنے والی یہ بھی کہ ملکہ وکٹوریہ کے تاج جو وہ سر پر پہنتی ہے اس میں لگا ہوادنیا کے سب سے قیمتی ہیرا بھی بر صغیر پاک ہند سے گیا ہوا ہے۔ آخری مغل بادشاہ کی سب سے زیادہ خوبصورت نوکرانی جو بظاہر مسلمان تھی لیکن حقیقت میں ایک یہودی جاسوس لڑکی تھی اس نے بادشاہ کو حیشیش کے نشہ وغیرہ دینے کے بعد موقع ملتے ہیں ایک رات چوری کر کے فرار ہو گئی ۔حقیقت میں جب ایک طوائف  کسی بادشاہ ، سیاست دان تک رسائی حاصل کر لیتی ہے تو سمجھ لیں حکومت  مسلمانوں کی کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی موجودہ مثال حریم شاہ کی چند دن پہلے لیک ہونے والی وڈیو سے صاف ظاہر ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کی حیثیت کسی طوائفہ سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہزاروں مثال دی جا سکتی ہیں۔
پہلی عالمی جنگ کے خاتمے پر مارچ 1921  میں برطانوی افواج مشرقی ایران سے واپس آئیں ۔ تو کنڈی اور زاہدان کے مابین ریلوے سروس کی اہمیت تقریبا ختم ہو گئی چناں چہ یہاں سے پڑی بھی اکھاڑ لی گئی۔ تاہم دوسری عالمی جنگ میں تو کنڈی زاہدان ریلوے سیکشن کی دوبارہ ضرورت پیش آئی ،کیوں کہ اس جنگ میں بر طانیہ اور روس اتحادی تھے اور جرمنی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے۔ اس دوران ایران کے راستے بر طانوی امداد روسی افواج تک پہنچائی جاتی ۔ چناں چہ ایک مرتبہ پھر ریلوے لائن ڈالی گئی۔
World Railway Track Business | railway track or smuggling track

 اور یوں 20 اپریل 1942 تک ریلوے لائن پر دو بارہ ٹرین چلنے لگی ۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے مغرب کی جانب نو شکی ، ، احمد وال ، دالہبندین اور نو کنڈی سے پاک ایران سر حد پر واقع تفتان کو ملانے والی سڑک بھی موجود ہے۔

چاغی میں مختلف قبائل صدیوں سے آباد ہیں۔ ان میں بادینی ، جمالدینی ، مینگل ، محمد حسنی ، پرکانی ،س سمالانی ، گورگیج ، بنکل زئی ، نوتیزئی ، ریکی اور بڑیچ قابل ذکر ہیں۔ قابل کی اکچریت بلوچی اور براہوی زبانیں بولتی ہے۔جب کہ بعض قبائل دونوں زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ چاغی مردام خیز سر زمین ہے۔ یہ ریکی شام اور قیصر خان جیسے کلاسیکی شعراسمیت دیگر عظیم شعرا اور اوبا کا جنم استھان ہے۔ جن میں میر گل خان نصیر ، منیر باد ینی ، آزات جمالدینی ، پرو فیسر عبد اللہ جان جمالدینی ، عاقل خان مینگل اور خلیفہ گل محمد نوشکوی شامل ہیں۔ مقامی باشندوں کا ذریعہ معاش زراعت گلہ بانی ، تجارت ، ٹرانسپورٹ اور سرکاری ملازمت ہے۔

World Railway Track Business | railway track or smuggling track

 گرچہ اکثر افراد پیٹرول سمیت دیگر ایرانی مصنوعات کی تجارت سے بھی وابستہ ہے۔مگر سر حد پر کشیدگی کی وجہ سے اس میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے۔ چاغی میں صحرا ریت کے ٹیلے ، سیاہ پہاڑوں اور میدانی علاقے موجود ہیں۔ موسم کے اعتبار سے اس کا شمار گرم علاقوں میں ہوتا ہے اور بعض اوقات نوکنڈی اور دالبندین میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے  مطابق ، ضلع چاغی کی آبادی تقریبا 4 لاکھ  ہے بد قسمتی سے اربوں روپے کے معدنی ذخائر رکھنے والے اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے اس خطے میں روز گار کے وسائل محدود ہیں پانی کے وسائل بھی کامیاب ہوتے جا رہے ہیں نوشکی کے قریب بارانی پانی سے بننے والی قدرتی جھیل زنگی  ناوڑ بارش کی کمی کے باعث اکثر خشک رہتی ہے۔ جب کہ ماضی میں یہ جھیل علاقے میں زراعت کے لیے اہم وسیلہ اور سائبیریا سے آنے والے والے نقل مکاں پرندوں کی آماج گا ہو ہوا کرتی ہے۔ علاقے کی واحد بارانی ندی ، خیصار اب پانی کو ترس گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضلع چاغی میں روز گار کی فراہمی پر توجہ دے سینڈک اور ریکوڈک جیسے منصوبوں میں مقامی افراد کے لیے ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائے ۔ نیز زمین داروں اور گلہ بانوں کو سہولتیں اور مراعات دے تاکہ وہ ارض پاک کی ترقی و خوش حالی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ اور پاکستان آرمی کا وسیع تر نیٹ ورک کیا جائے تاکہ آنے والے وقتوں 
میں پاکستان یہودیوں اور عیسائیوں کی سازشوں سے محفوظ ہو سکے ۔ 

Motivations,Information,Knowledge, Tips & Tricks, Solution, Business idea,News,Article,Islamic, Make Money,How to,Urdu/Hindi, top,Successes,SEO,Online Earning

No comments:

Post a Comment