﷽
شام میں ترک حملہ ، امریکہ کا شام کے حق میں بیان یا پھر اندرونی سازش
Turkey Attack in Syria | Reaction of Donald trump
8 برسوں سے لگا
تار جنگی حالت میں رہنے والے شامی لوگوں پر کیسے ممکن ہے کہ امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو یہودیوں کا ایجنٹ اور
ایکٹو کارکن ہے رحم کر رہا ہے۔ دال میں کچھ کالا ہے یا پوری کی پوری دال ہی کالی
ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
چند دن قبل
سعودی آئل گوداموں پر ہونے والے حملے کے باعث امریکہ کی مکمل سعودی عرب کو حمایت
اور ایران کے خلاف سخت رد عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ
ہارنے کے بعد اپنی فوج کو کامیابی اور چلاکی سے باہر نکلانے کی پوری کوشش کر رہا
ہے وہ پوری دنیا کی نظروں میں دھول چھونک کر امن کا ایواڈ اپنے نام کرنے کی ناکام
کوشش میں لگا ہوا ہے۔ جس کے لیے آئے دن نئے نئے ہت کنڈے استعمال کر رہا ہے۔ کیا
واقع امریکہ پوری دنیا میں امن چاہتا ہے؟ اس بات کا جواب اس وقت سمجھ میں آیا جب برطانیہ کی جاسوس صحافی نے
داعش اور القاعدہ کے ساتھ امریکہ کے اندرونے خانہ مذاکرات کو اور امریکہ کا 30
لاکھ جدید ترین ہتھیار داعش اور القاعدہ کو بیچنے کا معاملہ سر عام کر دیا ۔ مسلمان
ممالک کو توڑنے کی بہت بڑی سازشیں جو ہوش رکھنے والوں کو سمجھ آ رہی ہیں۔ یہ ہمارے
سیاست دان ان سے مبرہ ہیں۔ خلافتِ عثمانیہ کو توڑنے اور یہودیوں کے نیٹ ورک کو
مضبوط کرنے میں ان لوگوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ مودی کا کشمیر پر قبضہ پاکستان کو
مصروف رکھنے کی سازش ، انڈیا کا افغانستان میں اپنی فوج کا کنٹرول افغانستان کو
مصروف رکھنے کی سازش ،سعودی آئل حملہ ایران کو مصروف رکھنے کی سازش ، شام میں داعش
اور القاعدہ کو پروموٹ کرنا ، لیکن اچانک ترکی کا حملہ شام پر امریکہ کی کامیابیوں
پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ جب شام میں داعش اور کرد ۔ اپنی ہی شہری آبادیوں پر
حملہ کرتے تھے تب امریکہ کہاں تھا۔ جب مودی کا کشمیر پر قبضہ ہوا تب امریکہ کہاں
تھا۔ سب چور ہیں اور ملے ہوئے ہیں صرف مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی
ہے۔
ترکی میں 36
لاکھ شامی مہاجرین کی خیمہ بستی پر امریکہ کو کیوں رحم نہ آیا۔ پاکستان میں تقریبا
50 لاکھ افغانی مہاجرین پر امریکہ کو کیوں نہ رحم آیا ۔ رحم اس لیے نہیں آیا کہ یہ
سب مسلمان ہیں۔اور امریکہ کا کوئی ہوتا یہودی یا عیسائی تو جب تک اس کو چھڑا نہ
لیتے امریکہ کو چین نہ آتا ۔ جیسے ریمنڈیوس وغیرہ
شام کے شمال
مشرقی علاقے پر ترک فوج کے حملے کی اطلاع ان افراد کے لیے اچنبھے کا باعث نہیں، جو
شام کی موجودہ صورت سے واقفیت رکھتے ہیں۔ شام میں گزشتہ 8 برسوں سے جاری خوں ریزی
کو اگر کوئی فریق اپنی فتح یا تنازعے کا حل سمجھتا ہے تو وہ یا تو طاقت کے استعمال
کا حامی ہے۔ یا پھردنیا کا سب سے بڑا جاہل ہے۔ گرچہ اب نام نہاد امن مذاکرات کے
ذریعے شامی مسئلے کا حل تلاش کرنے والوں کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں لیکن شاید
یہ ممکن نہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے 19 اکتوبر 2019 کو شام کے شمالی
مشرقی حصے میں فوجی کاروائی کے آغاز کا اعلان اس لیے کیا کہ شام میں داعش اور کُرد
دونوں نے شام میں عام عوام کا جینا حرام کر رکھتا تھا۔ کیونکہ داعش ،کُرد اور
القاعدہ کو مکمل فنڈنگ امریکہ کی طرف سے
ہو رہی تھی ۔ جس کے باعث ترکی کا شام پر حملہ امریکہ کی کمر توڑنے میں بہت اہم کر
دار تھا کیونکہ داعش اور القاعدہ کی اگر ان مسلمان ممالک میں کمر توڑ دی جائے تو
امریکہ ، انڈیا ، برطانیہ کو مکمل طور پر توڑا جا سکتا ہے۔ ترکی کا کاروائی کا آغاز
تِل ابیض نامی علاقے سے ہوا اور اسے راس العین تک توسیع دی جائے گی ۔ جسے کُرد
ملیشیا ، پیش مرگا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شامی، ایرانی اور روسی افواج کی
کاروئیوں سے محفوظ رہا ۔ جب کہ ادلیب میں بم باری روزانہ کا معمول بن چکی ہے۔
ادلیب ، شامی اپوزیشن کا آخری اور مضبوط ترین قلعہ ہے۔ جہان اس کا شامی فوج کے
خلاف حتمی مقابلہ جا ری ہے۔ امریکا پیش مرگا کو اپنی حامی ملیشیا، جب کہ ترکی ایک
باغی گروہ قرار دیتا ہے ۔ ماضی میں ترکی نے بار با ر امریکہ کو متبنہ کیا تھا۔ کہ
مذکورہ عسکری تنظیم کو اس کی سرھد سے دور رکھے۔ یاد رہے کہ پیش مرگا نے امریکہ
اشیر باد سے اسی علاقے مین داعش کے خلاف جنگ لڑی تھی ۔ تب بشار الاسد اور ان کے
حلیف ممالک ایران اور روس نے داعش کے خلاف کاروائی اور اپوزیشن کو نشانہ بنایا ۔
تاہم ترکی کی حالیہ پیش قدمی پرانہوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ترک افواج کا شامی علاقے
پر حملہ دنیا کے لیے اس بات کا واضح پیغام ہے کہ فی الوقت شامی مسئلے کا درو دور
تک کوئی حل نظر نہیں آتا ۔ یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آخر ترک افواج نے شام
میں کروائی کیوں شروع کی ۔ اور کیا ایسا پہلی مرتبہ ہواہے؟ ۔شام میں تُرک کی
کاروائی صرف اور صرف امریکہ کے زیر سایہ تنظیم داعش اور القاعدہ کی کمر کو توڑنا
ہےاگر آج اس کی کمر نہ توڑی گئی پوری امت مسلمان تباہی کے داھانے پر ہو گی ۔ جس کا
بعد میں کوئی حل نہ ہو گا ۔ صدر اردوان نے حملے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی
اس علاقے کو کُرد ملیشیا سے پاک کر کے اسے ایک سیف زون میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
جہاں ترکی میں پنا لینےوالے کم و بیش 36 لاکھ شامی مہاجرین کو بسایا جائے گا۔ ترکی
تیسری مرتبہ شامی علاقے میں فوجی کاروائی کر رہا ہے اور اسے شامی اپوزیشن کی حمایت
بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب پیش مرگا نے جسے اعلی درجے کی لڑاکا فورس قرار دیا جاتا
ہے۔ پھر پور مذاحمت کا اعلان کیا۔ اس کی ترک فوج سے شدید جھڑپین ہو ئین۔ جس کے
نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ چوں کہ ترکی شام کا ہم سایہ ملک ہے۔ لہذا آج سے
8 برس قبل شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی سے یہ بی خاصا متاثر ہوا۔ 2011 کے اوائل
مین جب بشار الاسد کی افواج نے اپنے ہی شہریوں
کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا تو اس کے فورا بعد ہی تقریبا 15 لاکھ شامی
مہاجرین ترکی میں پنا لینے پر مجبور ہو گئے۔ پھر جیسے جیسے شام میں خون ریزی بڑھتی
گئی۔ ترکی میں شامی پنان گزینوں کی تعداد مین اضافہ ہو تا گیا ۔ انقرہ کی جانب سے
پیش کیے گئے سرکاری اعداد دو شمار کے مطابق ،ا س وقت کم و بیش 36 لاکھ شامی
مہاجرین کی مجموعی تعداد تقریبا ایک کروڑ 20 لاکھ ہے۔ جو ترکی کے علاوہ اردن ،
عراق ، لبنان ، اور کئی یورپی ممالک میں پنا گزین کی حیثیت سے زندگی گزار ہے ہیں۔
ان سے بالخصو ص یورپ خاصا پریشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شامی تارکین وطن کی آباد کاری
کے حوالے سے اردوان اور جرمن چانسلر ، اینگلا مرکل کے درمیان مذکرات کے کئی ادوار
اور ایک معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ شامی مہاجرین ، بشار الاسد اور ان کے اتحادیوں کے
حملوں سے بچنے کے لیے 2014 کے آخر میں غیر قانونی طور پر فشنگ ٹرالرز کے زریعے بحر
روم ےراستے پر پہنچنا شروع ہوئے اس عرصے مین اقوام متحدہ کی سلامتی کائونسل میں
شامی مسئلے کے لیے پیش کی گئی قرادادروں کو روس اور چین ویٹو کرتے رہے ۔ جب کہ
شامی حکومت جنیوا مذاکرات کو ناکام بناتی
رہی ۔ یعنی قیام امن کی کوششوں کو ہر ممکن حد تک سبو تا ژ کیا گیا۔ پھر داعش سامنے
اآ گئی ارو ساری عالمی طاقین اس کی بیج کنی مین مصروف ہو گئین۔ اس موقعے پر بتایا
گیا کہ داعش دنیا کے امن کے لیے سب سے ڑا خطرہ ہے اور کروڑوں شامی مسلمانوں کی
تباہ حالی کی اس کے سامنے کوئی اہمیت نہیں اس موقع پرشامی صدر نے داعش کے خلاف
کاروائی کی نیز ایران کے بعد اس وقت کے امریکی
صدر براک اوبامہ کی کم زوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وس نے بھی شام میں فوجی مداخلت
شروع کر دی روسی فضا ئیہ نے داعش کے خؒاف کاروائی کو جواز بناتے ہوئے شامی شہروں
پر بم باری کی ۔ حالاں کہ دفاعی ماہرین کے مطاب ان شہروں میں داعش کا وجود تک نہ تھا ۔ شام میں جاری
خانہ جنگی کی وجہ سے تقریبا 5 لاکھ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جب کہ ایک کروڑ سے
زائد بے گھر ہوئے نیز شام کے تاریخ شہرکھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہین۔ شامی
اپوزیشن کے خلاف فوجی کاروائی کے آغاز کے بعد 2015 تک ترکی بشار الاسد کو صدر
قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ اور اردوان ان
کے اقتدار سے ہٹنے کی صورت ہی میں شامی مسئلے کا کوئی ھل قبول کرنے پر آمادہ نہ
تھا۔ تاہم جب باراک اوباما نے مشرق وسطی ٰ میں عدم دل چسپی کا اظہار اور اپنی فوج
وپس بلانے کا اعلان کیا۔ تو ترکی کے لیے شامی اپوزیشن کا ساتھ دینا ممکن نہ رہا ۔
یعنی شامی اپوزیشن کو ایک ایسے وقت میں تنہا چھوڑدیا گیا جب ان پر شدید بم باری کی
جا رہی تھی ۔ اور مغربی دنیا ۔ جو انسانی حقوق کی چیمپئن کہلاتی ہے۔ شامی مسلمانوں
کی بے بسی کا تماشا دیکھتی رہی۔ نتیجتا ۔ شامی مسلمانوں کی ہلاکتیں لاکھوں کی
تعداد میں جا پہنچیں اور شامی پنا ہ گزین ایک ایسا بین الا قوامی مسئلہ بن گئے جس
کے حل پر کوئی آمادہ نہ تھا۔ امت مسلمہ اور اقوام عالم کی بے حسی کے سبب شام میں
نہ صرف ایک انسانی المیے نے جنم لیا ۔ بلکہ شامی افواج نے اپوزیشن کے زیر اثر
علاقوں پر قبضۃ بھی شروع کر دیا۔ اس وقت صرف ادلیب ہی اپویزیشن کے پاس باقی بچا ہے
اور یہ بھی کچھ عرصے مین اس کے ہاتھ سے کل جائے گا۔ بہر کیف امریکا کی عدم دل چسپی
کے بعد ترکی روس ، ایران اور شامی حکومت
سے مذاکرات پر مجبور ہوا اور اس نے بشار الاسد کے اقتدار کو توتسلیم کرنے کے اشارے
دینا شروع کر دیے۔ تاہم شامی مہاجرین کا مسئلہ جوں کا توتھا ۔ بعد ازاں جب شامی
پنا گزینوں پر یورپ کے دروازے بند کیے جانے لگے تو انہوں نے ترکی کے بڑے شہروں کا
رخ شروع کر دیا۔ یورپی قوم پر ستوں کی جانب سے شامی تارکیں وطن کو اپنے کی مخالفت
کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں گلے لگانے کی وجہ سے جرمن چانسلز
،اینکلا مرکل کو انتخابات میں اکثریت سے ہاتھ دھونا پڑے اور وہاں تارکین وطن
مخالف اور قوم پرست عناصر کی پذیرائی میں
اضافہ ہوا ۔ نتیجتا ً شامی مہاجرین کا سارا بوجھ ترکی پرآن پڑا اور اس کی وجہ سے
ترکی کے شہروں مین مختلف سماجی مسائل جنم لینے لگے۔ جن سے متعلق ماہرین پہلے ہی
خبردار کر چکے تھے۔ واضح رہے کہ ترکی کے علاوہ اردون اور لبنان میں بھی مسائل
گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں پکنے والا لاوا بھی کسی وقت پٹھ سکتا
ہے۔ اس نازک صورت حال کے پیش نظر ترکی کی شام میں فوجی کاروائی قابل فہم ہے ۔ یاد
رہے کہ اپنے ملک سے بے دخل ہونے والے افراد کو اپنی سر زمین کے علاوہ اور کہیں
پناہ نہیں ملتی اور تباہی و بر بادی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس سلسلے میں فلسطنی
اور افغان مہاجرین کی مثالیں بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بد قسمتی
کی بات یہ یہے کہ یہ تمام مہاجرین مسلمان ہیں۔ یعنی برق گرتی ہے تو بے چارے
مسلمانوں پر ۔ یاد رہے کہ شام میں خانہ جنگی کا آغاز غیر جانب دارانہ اور شفاف انتخابات
کے ذریعے نئی حکومت قائم کرنے کے مطالبے کے نتیجے میں ہوا تاھ۔ اس وقت ترکی کا
موقف ہے کہ وہ شام کے شمال مشرقی حصے میں
32 کلو میٹعر پر محیط ایک بفریا سیف زون قائم کرناچاہتا ہے۔ جس میں ترکی میں پنا ہ
لینے والے 36 لاکھ شامی با شندوں کو اپنے
ملک میں آباد ہونے کا حق حاصل ہے اور دنیا
کا کوئی قانون انہیں نہیں روک سکتا ۔ تاہم اس موقعے پر امریکا کی یہ منطق نا قابل
فہم ہے کہ یہاں کُردوں کو بسایا جا ئے ۔ جنہوں نے داعش کے خلاف اس کی مدد کی ۔ اس
وقت ایک کروڑ 20 لاکھ باشندون کا مستقبل خطرے میں ہے ۔ جب کہ اقوام عالم بے حسبی و بے بسی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اب امریکا
اور یورپ کی مشرق وسطیٰ سے دل چسپی ختم ہو چکی ہے۔ اور اس کا ندازہ امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطی مین فوجی مداخلت ان کے
پیش روئوں کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اور وہ امریکی افواج واپس طلب کر کے اس غلطی کا
ازالہ کر رہے ہیں امریکی صدر کی یہ بات تو درست ہے لیکن شام کو افراتفری کی نذر
کرنے ، لاکھوں جانوں کے زیاں اور شہروں کو کھنڈرات میں بدلنے کے بعد وہاں قیام امن
کے ذمے دار کون ہیں۔ اور ایک کروڑ سے زائد شامی مہاجرین کے ٹھکانے کا بندو بست کوں
کرے گا۔ ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شام میں ترکی کی فوجی کاروائی سے
اختلاف ممکن نہیں لیکن جب کوئی بھی ریاست
شامی پنا ہ گزیوں کو جگہ دینے پر آمادہ نہیں تو کیا پھر ترکی کو یہ حق نہیں پہنچتا
کہ وہ انہیں ایک مرتبہ پھر انہیں کی اپنی زمین پر آباد کریں۔
حیرت کی بات ہے
کہ امریکہ کو شامی تارکین وطن کی بہ جائے کُردوں کاغم کھائے جا رہا ہے۔ حالاں کہ
ان کے پاس اپنی سر زمین موجود ہے۔ جس مین وہ آباد ہو سکتے ہیں۔ پھر 2008 میں تو
ترک کُردوں نے اردوان کے ساتھ جو تب و زیر
اعظم تھے ۔ معاہدے کے نتیجے میں مرکزی دھارے کی سیاست کا حصہ بننا قبول کیا تھا اور
انتخابات میں 10 فی صد نشتیں حاصل کرنے میں بھی کام یاب ہوئے تھے۔ لہٰذا اب انہیں
مذاکرات سے کون روک رہا ہے۔ امریکا اور یورپ نے ترکی کے اس اقدام پر ناراضی کا
اطہار کیا ہے اور ٹرمپ نے اس پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ جو
قطعا درست نہیں یاد رہے کہ امریکا اور یورپ کے اس رویے ہی نے ترکی کو روس سے قربت
اختیار کرنے پر مجبور کیا اور اب وہ اس سے میزائل ڈیفینس سسٹم تک خریدنے پر مجبور
ہو رہا ہےیورپی ممالک کا کا کہنا ہے کہ ترکی ، شام کے شمال مشرق حصے پر حملے فورا
روک دے۔ نیز و اس علاقے میں شامی مہاجرین کی آبادکاری میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔
شامی تارکین وطن کی حالت زار دیکھتے ہوئے یہ بیان نہایت مضحکہ لگتا ہے۔ اور اس سے
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ میں پنا لینے کی کوشش
کرنے والے شامی مہاجرین کو اپنے ملک میں بسانا کوئی بہت بڑا جرم ہے۔ اسے انسانی
حقوق کے چیمپئن یعنی مغرب کی دوغلی پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ پھر مشرق وسطی کو اس
حال تک پہنچانے میں یورپ کا تاریخی کردار کون فراموش کر سکتا ہے۔ عربوں کو بغاوت
پر آمادہ کرنا۔ خلاف عثمانیہ کا خاتممہ ، بیت المقدس پر فوجی قبضہ ، سائیکس
پائیکوٹ معاہدے کے ذریعے مشرق وسطی کا بٹوارہ اسرائیل کا قیام ، اسلامی ممالک میں
فوجی حکم رانوں کو مسلک کرکے ان کی مدد کرنا، عراقی جنگیں اور عرب اسپرنگ وغیرہ اس
خطے میں مغرب کی مداخلت کی واضح مثالیں ہیں۔ اس وقت ترکی ہی وہ واحد ملک ہے کہ جو
مسئلہ شام سے پوری طرھ واقف ہے۔ کیوں کہ شام سے اس کی سرحد ملتی ہے۔ پھر ترکی ہی
میں سب سے زیادہ شامی مہاجرین مقیم ہیں یورپ کا حصہ اور نیٹو کا اتحادی ہونے کے
ناتے ترکی نے مغربی ممالک کے سامنے شامی مہاجرین کا مسئلہ رکھا لیکن اس کی شنوائی
نہیں ہوئی ۔ لہذٰ اب خود اسے یہ مسئلہ حل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ویسے بھی اگر
شام مین روس اور ایران کی فوجی مداخلت قابل قبول ہو سکتی ہے۔
تو پھر ترکی کی کیوں
نہیں حالاں کہ وہ شام کی سرھد پر واقع ہے۔ ترکی کی فوجی کاروائی سے شام کی سالمیت
کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں شامی شہری اپنے ملک میں آباد ہوں گے اور
یورپ کو بھی مہاجرین کے سیلاب سے نجات مل جائے گی ۔ یورپ بھی یہ جانتا ہے کہ ترکی
کے اس اقدام سے اسے فائدہ پہنچے گا۔ لیکن دکھاوے کے لیے واویلا کر رہا ہے۔ اور
حقیقت سیف یا بفر زون میں شامی مہاجرین کو بسانے کا حل تسلیم بھی کر لیا گیا ہے
نیز ماہرین اس امر کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ایسے ہی مزید علاقے قائم کر کے
دیگر ممالک میں پنا لینے والے شامی باشندوں کو ان میں بسایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا
ہمیں ترکی کی حمایت کرنی چاہیے اور ترکی کے فیصلے سے بہتری کی امید رکھتے ہوئے
یورپ کی ناکامی کو بہتری انداز میں انجوائے کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنا دوستوں ،
رشتہ
داروں اور گرد نواح کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ فرقہ واریت سے بچیں اور دین اسلام کو
پھیلانے کی کوشش کریں۔
Motivations,Information,Knowledge, Tips & Tricks, Solution, Business idea,News,Article,Islamic, Make Money,How to,Urdu/Hindi, top,Successes,SEO,Online Earning






No comments:
Post a Comment